Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Insan 76:6

76:6
عينا يشرب بها عباد الله يفجرونها تفجيرا ٦
عَيْنًۭا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ ٱللَّهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًۭا ٦
عَيۡنٗا
يَشۡرَبُ
بِهَا
عِبَادُ
ٱللَّهِ
يُفَجِّرُونَهَا
تَفۡجِيرٗا
٦
Có một con suối mà những người bề tôi của Allah sẽ uống; dòng chảy của nó dồi dào theo mong muốn của họ.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 76:5 đến 76:6

ان الابرار .................................... تفجیرا

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک لوگوں کا مشروب ایسا ہوگا کہ اس میں کافور کی ملاوٹ ہوگی ، یہ مشروب ایک ایسے چشمے سے بھر کردیا جائے گا ، جو ان کے لئے خصوصی طور پر بہایا گیا ہوگا۔ یعنی وہ نہر کی طرح وافر اور کثیر مقدار میں ہوگا۔ عربوں کی یہ عادت تھی کہ شراب میں کبھی کافور اک بھی زنجبیل (سونٹھ) کا آمیزہ کرتے تھے۔ اور اس طرح شراب کو زیادہ لذیذ بنانے کی کوشش کرتے تھے۔ یہاں انہیں بتایا جاتا ہے کہ جنت میں بھی پاک اور صاف مشروب ہوگا ، جس میں کافور کا آمیزہ ہوگا اور یہ شراب بڑی وافر مقدار میں ہوگی۔ اس کا معیار کیا ہوگا ، یہ دنیا کی شراب کے مقابلے میں بہت خوش ذائقہ ہوگی اور اس کی لذت اس قدر زیادہ ہوگی کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ یہ تو درحقیقت قریب الفہم بنانے کے لئے ان اصطلاحات کے اندر کہا جارہا تھا تاکہ لوگ سمجھ سکیں ورنہ جنت کی نعمتیں عالم غیب میں ہیں۔ ان کا صحیح تصور اور ان کی تصحیح تعبیر ہم نہیں کرسکتے۔

اہل جنت کو پہلی آیت میں الابرار کہا گیا ہے اور دوسری میں عباد اللہ کہا گیا ہے۔ یہ محض قرب و محبت کے اظہار کے لئے اور فضل وکرم کے اعلان کے لئے ہے اللہ کے یہ بندے اللہ کے قریب ہوں گے۔ اور ان کے اوصاف اور خدوخال یہ ہوں گے :