Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Haqqah 69:10

69:10
فعصوا رسول ربهم فاخذهم اخذة رابية ١٠
فَعَصَوْا۟ رَسُولَ رَبِّهِمْ فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةًۭ رَّابِيَةً ١٠
فَعَصَوۡاْ
رَسُولَ
رَبِّهِمۡ
فَأَخَذَهُمۡ
أَخۡذَةٗ
رَّابِيَةً
١٠
Chúng đã không vâng lời các Sứ Giả của Thượng Đế của chúng, vì vậy, Ngài bắt phạt chúng bằng một sự túm bắt mạnh bạo.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 69:9 đến 69:11

فرعون مصر میں تھا۔ یہ حضرت موسیٰ کے دور کا فرعون تھا۔ اس سے قبل اس کی تفصیلات نہیں آئیں۔ الموتفکت سے وہ بستیاں مراد ہیں جو ہلاک ہوئیں ، تباہ ہوئیں ، تلپٹ ہوئیں۔ یہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیاں تھیں ، جن کو ہلاک کیا گیا اور یوں کہ انہیں الٹ دیا گیا ۔ لفظ موتفکت کے مفہوم میں یہ دونوں باتیں آتی ہیں۔ ان سب لوگوں کے کام اور بدعملی کو الخاطئہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی انہوں نے غلط فعل کا ارتکاب کیا۔ یہ الخطیئة سے ماخوذ ہے یعنی عظیم غلطی۔ یہاں فعصوارسول ربھم (96 : 01) ” ان سب نے اپنے رب کے رسول کی بات نہ مانی “۔ حالانکہ انہوں نے کئی رسولوں کی بات نہ مانی تھی۔ ایک رسول نہ تھا لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے رسول اور رسالت ایک ہی چیز ہے۔ گویا تمام رسول ایک ہی رسول ہیں۔ قرآن کریم کے یہ انوکھے اشارات میں سے ایک اشارہ ہے۔ اور اس سورت کی فضا کے مطابق ان سب کا ایک ہی ہولناک انجام ذکر کردیا جاتا ہے۔ جو فیصلہ کن انجام ہے۔

فاخذھم ................ رابیة (96 : 01) ” تو اس نے ان کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا “۔ رابیہ کے معنی ہیں : اعلیٰ ، ڈھانپنے والی ، دفن کرنے والی۔ یہ لفظ یہاں اس لئے لایا گیا ہے کہ لفظ طاغیہ کے ساتھ مناسبت پیدا ہوجائے جو ثمود پر آئی ہے۔ اور عاتیہ کے ساتھ یکساں ہوجائے جو عاد پر پڑی۔ اور اس سورت کی فضا اور ماحول سے مناسب لفظ بھی فراہم ہوجائے لیکن تفصیل اور طوالت بھی نہ ہو ، کیونکہ اس سورت میں اختصار بھی ملحوظ ہے۔

اب اس کے بعد سفینہ جاریہ کا منظر۔ اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت کے منظر کی طرف اشارہ ہے۔ انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ حضرت نوح کا یہ امتیاز ہے کہ ان کے ساتھیوں کی نسل ہی سے موجود آبادی چلی ہے۔ لیکن انسانوں نے اس عظیم معجزے سے نہ عبرت پکڑی اور نہ خدا کا شکر ادا کیا ، کہ اس واقعہ میں اللہ نے ہمارے اجداد کو بچایا۔