Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Fath 48:14

48:14
ولله ملك السماوات والارض يغفر لمن يشاء ويعذب من يشاء وكان الله غفورا رحيما ١٤
وَلِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا ١٤
وَلِلَّهِ
مُلۡكُ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِۚ
يَغۡفِرُ
لِمَن
يَشَآءُ
وَيُعَذِّبُ
مَن
يَشَآءُۚ
وَكَانَ
ٱللَّهُ
غَفُورٗا
رَّحِيمٗا
١٤
Quyền thống trị các tầng trời và trái đất đều thuộc về (một mình) Allah. Ngài muốn tha thứ cho ai là tùy ý Ngài và Ngài muốn trừng phạt ai cũng tùy ý Ngài. Tuy nhiên, Allah là Đấng Tha Thứ, Đấng Khoan Dung.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 48:13 đến 48:14

ومن لم یومن ۔۔۔۔ للکفرین سعیرا (48 : 13) وللہ ملک السموت ۔۔۔۔ غفورا رحیما (48 : 14) “ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر جو لوگ ایمان نہ رکھتے ہوں ایسے کافروں کے لئے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک اللہ ہی ہے ، جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے سزا دے ، اور وہ غفور و رحیم ہے ” ۔ یہ لوگ اپنے اموال اور اہل و اولاد کا عذر پیش کرتے تھے۔ تو سوال یہ ہے کہ یہ جہنم جو کافروں کے لئے تیار رکھی ہوئی ہے ، اس میں مال و اولاد کیا فائدہ دیں گے ، اگر وہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لائے۔ غرض ترازو کے دو پلڑے ہیں۔ ایک ایمان کا دوسرا کفر و نفاق اور سوء ظن کا ، ان میں ان کو ایک کو قبول کرلینا چاہئے۔ اللہ جو تمہیں ڈراتا ہے وہ آسمانوں اور زمین کی قوتوں کا مالک ہے۔ وہ عذاب بھی دے سکتا ہے اور معاف بھی کرسکتا ہے۔

اللہ لوگوں کو جزا یا سزا ان کے اعمال پر دیتا ہے۔ لیکن اس کی مشیت مطلق و آزاد ہے۔ اس پر کوئی قید نہیں ہے۔ یہ بات یہاں اس لیے بتا دی گئی کہ لوگوں کے دلوں میں یہ بات بیٹھ جائے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اعمال پر جزاء بھی اسی نے طے کی ہے۔ اللہ کی رحمت اور مغفرت سب کے لئے قریب ہے۔ مناسب ہے کہ لوگ اسے طلب کریں۔ قبل اس کے کہ اللہ کے عذاب کا فیصلہ صادر ہوجائے ، اور یہ فیصلہ ظاہر ہے انہی لوگوں کے لئے ہوگا جو اللہ اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لائیں گے۔

اس کے بعد اللہ ان اموال غنیمت کی طرف اشارہ فرماتا ہے جو مومنین کے لئے مقدر ہوچکے ہیں۔ اور یہ ان لوگوں کی بدگمانیوں کے بالکل متضاد صورت حالات ہوگی اور انداز کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعات بہت ہی قریب وقت میں رونما ہونے والے ہیں۔