Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Ahqaf 46:31

46:31
يا قومنا اجيبوا داعي الله وامنوا به يغفر لكم من ذنوبكم ويجركم من عذاب اليم ٣١
يَـٰقَوْمَنَآ أَجِيبُوا۟ دَاعِىَ ٱللَّهِ وَءَامِنُوا۟ بِهِۦ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُجِرْكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍۢ ٣١
يَٰقَوۡمَنَآ
أَجِيبُواْ
دَاعِيَ
ٱللَّهِ
وَءَامِنُواْ
بِهِۦ
يَغۡفِرۡ
لَكُم
مِّن
ذُنُوبِكُمۡ
وَيُجِرۡكُم
مِّنۡ
عَذَابٍ
أَلِيمٖ
٣١
“Hỡi dân của chúng tôi! Các người hãy đáp lại vị mời gọi của Allah và các người hãy tin nơi Người; Ngài sẽ tha thứ tội lỗi của các người và Ngài sẽ cứu các người khỏi sự trừng phạt đau đớn.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

یقومنا اجیبوا داعی اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم (46 : 31) “ اے ہماری قوم کے لوگو ، اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرلو اور اس پر ایمان لے آؤ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذاب الیم سے بچائے گا ” ۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ یہ کتاب جو نازل کی گئی ہے ، اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ جن و انس دونوں کے لئے دعوت ہے اور اسے پوری زمین کے لوگوں تک پہنچنا چاہئے۔ اور اس کتاب کو سنتے ہی انہوں نے اس بات کو پالیا کہ حضرت محمد ﷺ داعی الی اللہ ہیں۔ اس لیے انہوں نے یہ بھی معلوم کرلیا کہ ایمان اور عمل صالح کے نتیجے میں بخشش نصیب ہوتی ہے اور اللہ کے عذاب سے بچا جاسکتا ہے۔ چناچہ انہوں نے جو کچھ سمجھا اس کی تعلیم دے دی۔

ابن اسحاق کی روایت یہ ہے کہ اس پر جنوں کی بات ختم ہوگئی ہے لیکن سیاق کلام پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگلی دو آیات بھی جنوں کے کلام کا حصہ ہیں۔ خصوصاً یہ آیت :