Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ya-Sin 36:5

36:5
تنزيل العزيز الرحيم ٥
تَنزِيلَ ٱلْعَزِيزِ ٱلرَّحِيمِ ٥
تَنزِيلَ
ٱلۡعَزِيزِ
ٱلرَّحِيمِ
٥
(Kinh Qur’an) được ban xuống từ Đấng Toàn Năng, Khoan Dung.
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 36:5 đến 36:6

تنزیل العزیز الرحیم (36: 5) ” یہ غالب اور رحیم ہستی کا نازل کردہ ہے “۔ ایسے مقامات پر اللہ اپنے بندوں سے اپنے آپ کو متعارف فرماتا ہے تاکہ وہ اللہ کے کلام کی حقیقت کو سمجھیں کہ اللہ غالب ہے اور رحیم ہے۔ وہ غالب ہے لہٰذا جو چاہے کرسکتا ہے۔ اور رحیم ہے ، اس لیے اپنے بندوں کے ساتھ رحیمانہ برتاؤ کرتا ہے۔ اس لیے اللہ کے احکام میں رحمت کا پہلو ضرور ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ اس قرآن کے نزول کے مقاصد کیا ہیں اور اس کی حکمت کیا ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو انجام بد د سے ڈرایا جائے اور ان تک سچائی کا پیغام پہنچایا جائے۔ خصوصاً

لتنذر قوما۔۔۔۔ فھم غفلون (36: 6) ” تاکہ تم خبردار کرو ایسی قوم کو جس کے باپ دادا خبر دار نہ کیے گئے تھے اور اس وجہ سے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں “۔ غفلت وہ بڑی بیماری ہے جس کی وجہ سے دلوں میں فساد پیدا ہوجاتا ہے۔ ایک غافل دل دراصل اپنے فریضہ منصبی کو چھوڑ دیتا ہے ، اس لیے وہ ایک عضو معطل ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ہدایت اخذ کرنا اور اسے قبول کرنا یہ دل کا کام ہے۔ جب انسانوں کے سامنے دلائل ہدایت پیش کیے جاتے ہیں تو انسانی دل یا تو ان پر غافل ہوکر گزر جاتا ہے اور یا ان دلائل کو اخذ کرلیتا ہے۔ لہٰذا ان غافل لوگوں کو ڈرانا مفید تھا۔ کیونکہ نسلیں گزر گئی تھیں اور اس قوم کے پاس کوئی درانے والا نہ آیا تھا۔ نہ کوئی ایسا شخص آیا تھا جو ان کو متنبہ کرتا۔ یہ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی امت اور اولاد میں سے تھے۔ اور ان کے بعد صدیاں گزر گئی تھیں۔ اور ان کے پاس کوئی نبی اور نذیر نہ آیا تھ۔ لہٰذا ایسا ڈرانے والا ان کی ضرورت تھا ، جو ان کو خوب غفلت سے بیدار کر دے کیونکہ آباؤ اجداد کے وقت سے یہ لوگ خواب غفلت میں پڑے ہوئے تھے۔

اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ ان غوفلوں کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ اللہ کے نظام قضاء قدر نے ان کے بارے میں کیا فیصلہ کردیا ہے کیونکہ اللہ کو ان کے قلوب کے بارے میں خوب علم تھا۔ وہ ان سے سرزد ہونے والے امور کو پہلے سے جانتا تھا ۔ انہوں نے جو کیا وہ بھی اللہ کے علم میں تھا اور جو ہونے والا تھا ، وہ بھی اس کے علم میں تھا۔