Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Anbiya 21:111

21:111
وان ادري لعله فتنة لكم ومتاع الى حين ١١١
وَإِنْ أَدْرِى لَعَلَّهُۥ فِتْنَةٌۭ لَّكُمْ وَمَتَـٰعٌ إِلَىٰ حِينٍۢ ١١١
وَإِنۡ
أَدۡرِي
لَعَلَّهُۥ
فِتۡنَةٞ
لَّكُمۡ
وَمَتَٰعٌ
إِلَىٰ
حِينٖ
١١١
“Ta thực sự không biết liệu đó là một sự thử thách hay là một sự hưởng thụ ngắn ngủi dành cho các người.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 21:110 đến 21:111

انہ یعلم الجھر من القول ویعلم ماتکتمون (21 : 110) ” اللہ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو با آواز بلند کہی جاتی ہیں اور وہ بھی جو تم چھپا کر کرتے ہو۔ “ تمہارے سب معاملات اس کے سامنے کھلے ہیں۔ وہ اگر تمہیں سزا دے گا تو اس لئے دے گا کہ تمہارے ظاہری اور خفیہ سب معاملات سے وہ باخبر ہے اور اگر وہ عذاب کو مئوخر کرتا ہے تو پھر بھی کوئی حکمت اس کے پیش نظر ہوگی۔

وان ادری لعلہ فتنۃ لکم و متاع الی حین (21 : 111) ” میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ شاید یہ تمہارے لئے ایک فتنہ ہے اور تمہیں ایک وقت تک کے لئے مزے کرنے کا موقعہ دیا جا رہا ہے۔ “ یعنی تمہاری سزا میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے ؟ یہ میرے علم کے مطابق تمہارے لئے مزید آزمائش ہے۔ تمہیں مزید مہلت دی جا رہی ہے اور اس کے بعد تمہیں بڑی سختی سے پکڑا جائے گا۔

وقت عذاب کے عدم تعین میں بھی ان کے لئے احساس کرنے کا ایک موقع ہے۔ جب کسی وقت کا تعین نہ ہو تو اس امر کے واقع ہونے کا احتمال ہر وقت رہتا ہے اور ایک عقلمند اس سے ڈر سکتا ہے کہ کہیں اچانک ہی سر پر نہ آجائے۔ یہ بھی امکان ہے کہ ان کے دل غفلت کے پردوں سے باہر نکل آئیں اور یہ سمجھ لیں کہ اس آزمائش اور مہلت کے بعد کہیں مصیبت نہ آجائے۔ اگر کسی مصیبت کو آنا ہو اور وقت معلوم نہ ہو تو ایک سمجھدار انسان کو ہر وقت کھٹکا لگا رہتا ہے کہ ابھی پردہ گرتا ہے اور یہ مصیبت سامنے آتی ہے۔

بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان ان امور سے غافل ہوتا ہے جو پردہ غیب کے پیچھے سے اس کے انتظار میں ہوتے ہیں اور دنیا کا ساز و سامان و عیش و طرب انسان کو مزید دھوکہ دیتا ہے۔ انسان ان امور کو بھول جاتا ہے جو پردے کے پیچھے ہوتے ہیں ، لہٰذا وہ عدم علم کی وجہ سے غافل ہوجاتا ہے اس لئے اللہ نے لوگوں کو اور ایسے غافلوں کو متنبہ کرنا ضروری سمجھا ہے تاکہ وہ وقت آنے سے پہلے ہی خبردار ہوجائیں اور اپنے لئے کوئی بندوبست کریں۔

حضور نے امانت پہنچا دی ، پیغام لوگوں کو دے دیا اور علی اعلان دے دیا۔ ان کو اچانک عذاب الٰہی سے بھی خبردار کردیا۔ اب آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجائیں اور اللہ سے یہ درخواست کریں کہ وہ سچا فیصلہ کر دے اور ان لوگوں کی سازشوں ، ان کی تکذیب اور ان کے مذاق کا صلہ خود ان کو دیں۔