Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Anbiya 21:11

21:11
وكم قصمنا من قرية كانت ظالمة وانشانا بعدها قوما اخرين ١١
وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍۢ كَانَتْ ظَالِمَةًۭ وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا ءَاخَرِينَ ١١
وَكَمۡ
قَصَمۡنَا
مِن
قَرۡيَةٖ
كَانَتۡ
ظَالِمَةٗ
وَأَنشَأۡنَا
بَعۡدَهَا
قَوۡمًا
ءَاخَرِينَ
١١
Đã biết bao thị trấn bị TA tiêu diệt vì đã làm điều sai quấy, và sau họ, TA đã tạo ra một đám người khác!
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

وکم قصمنا من قریۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حصیدا خمدین (11 تا 51) ”

قصم کا مفہوم ہے شدت سے کاٹنا ‘ اس لفظ کی آواز کی شدت بھی اس کے ملسوم کو ظاہر کرتی ہے۔ اس لفظ کے تلفظ ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ ظالم بستیوں کو بڑی شدت اور سختی سے اس طرح توڑا پھوڑا گیا کہ ان کا وجود ہی ختم کردیا گیا اور ان کی حالت یہ ہوگئی کہ ان کو پیس کر رکھ دیا گیا۔

وانشانا ۔۔۔۔۔۔۔ اخرین (12 : 11) ” اور ان کے بعد دوسری کسی قوم کو اٹھایا “۔ یہاں قصم کا فعل بستیوں پر وارد ہوتا ہے اور بستیوں اور ان کے باشندوں سب کو پیس کر رکھ دیا جاتا ہے لیکن انشا کا فعل صرف قوم پر وارد ہوتا ہے ‘ پہلے قوم پیدا ہوتی ہے اور پھر اس کے بعد وہ بستیاں آباد کرتی ہے۔ یہ تو ہے تو حقیقت واقعہ کہ تباہی بستیوں پر آتی ہے اور اس میں آبادی بھی ہلاک ہوجاتی ہے۔ اور جب اٹھایا جاتا ہے تو پہلے اقوام کو اٹھا یا جاتا ہے اور وہ پھر بستیاں آباد کرتی ہیں لیکن جس انداز میں ‘ ایک منظر کی شکل میں ہلاکت و بربادی کو پیش کیا گیا ہے ‘ یہ قرآن کریم کا مخصوص فنی اسلوب ہے۔

جب یہ تباہی آتی ہے تو اس میں لوگوں کا منظر بھی بڑا عجیب ہے۔ ان کی حالت یوں ہوتی ہے جس طرح پنجرے میں چوہے بند ہوجاتے ہیں ‘ جب تک وہ ہلاک نہ کردیئے جائیں ‘ وہ پنجرے کے اندر ادھر ادھر بھاگتے ہی رہتے ہیں۔