Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Hud 11:75

11:75
ان ابراهيم لحليم اواه منيب ٧٥
إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّٰهٌۭ مُّنِيبٌۭ ٧٥
إِنَّ
إِبۡرَٰهِيمَ
لَحَلِيمٌ
أَوَّٰهٞ
مُّنِيبٞ
٧٥
Quả thật, Ibrahim là người chịu đựng, năng cầu nguyện và sám hối (với Allah).
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 11:74 đến 11:75

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایسے حلیم الطبع تھے کہ وہ موجبات غیظ و غضب کو برداشت کرلیتے تھے ، صبر کرتے تھے اور جوش میں نہ آتے تھے۔ اور اواہ کے معنی یہ ہیں کہ خدا خوفی کی وجہ سے وہ ہر وقت آہ وزاری فرماتے تھے اور منیب کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہر معاملے میں جلدی سے اپنے رب کی طرف رجوع فرماتے تھے۔ ان تمام صفات کے باعث حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے فرشتوں کے ساتھ قوم لوط (علیہ السلام) کے حوالے سے جھگڑنا شروع کردیا۔ اب یہ کہ حضرت نے کیا جھگڑا فرمایا ؟ قرآن کریم نے اس کی کوئی تشریح نہیں کی ہے لیکن عین اس وقت اللہ کا حکم آگیا اور فرمایا گیا کہ اس معاملے میں نہ جھگڑو ، لہذا جھگڑا ختم ہوگیا۔