Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Hud 11:63

11:63
قال يا قوم ارايتم ان كنت على بينة من ربي واتاني منه رحمة فمن ينصرني من الله ان عصيته فما تزيدونني غير تخسير ٦٣
قَالَ يَـٰقَوْمِ أَرَءَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّى وَءَاتَىٰنِى مِنْهُ رَحْمَةًۭ فَمَن يَنصُرُنِى مِنَ ٱللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُۥ ۖ فَمَا تَزِيدُونَنِى غَيْرَ تَخْسِيرٍۢ ٦٣
قَالَ
يَٰقَوۡمِ
أَرَءَيۡتُمۡ
إِن
كُنتُ
عَلَىٰ
بَيِّنَةٖ
مِّن
رَّبِّي
وَءَاتَىٰنِي
مِنۡهُ
رَحۡمَةٗ
فَمَن
يَنصُرُنِي
مِنَ
ٱللَّهِ
إِنۡ
عَصَيۡتُهُۥۖ
فَمَا
تَزِيدُونَنِي
غَيۡرَ
تَخۡسِيرٖ
٦٣
(Saleh) nói với chúng: “Hỡi người dân của Ta! Các ngươi có xem xét: nếu Ta có bằng chứng rõ ràng từ nơi Thượng Đế của Ta và Ngài ban cho Ta lòng thương xót nơi Ngài (khi chọn Ta làm Sứ Giả) thì ai sẽ giúp Ta thoát khỏi (sự trừng phạt của) Allah nếu Ta bất tuân Ngài. Vì vậy, các ngươi chỉ làm cho Ta thêm thua thiệt.”
Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

اے میری قوم ، تمہارا کیا خیال ہے ؟ میں تو اپنے نفس میں اپنے رب کی حقیقت کو واضح طور پر پاتا ہوں اور یہ ربانی حقیقت مجھے صاف صاف بتاتی ہے کہ جس راہ پر میں چل رہا ہوں وہ بالکل واضح اور حقیقی ہے ، پھر اس پر مزید فضل مجھ پر یہ ہوا ہے کہ اللہ نے مجھے منصب رسالت کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ اور اللہ نے مجھے وہ صلاحتیں دی ہیں جو اس منصب کے لیے ضروری ہیں ، اگر ان حقائق کو جانتے ہوئے بھی میں اللہ کی نافرمانی کروں اور تبلیغ دین میں قصور کا ارتکاب کروں تو میری مدد کون کرے گا ؟ کیا میں تمہاری امیدوں کا پاس رکھوں یا اپنی نجات کی فکر کروں ؟ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا کہ میں اپنے انجام کو محض اس لیے داؤ پر لگا دوں کہ تمہاری امیدیں پوری ہوں۔

فَمَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُ فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيْرَ تَخْسِيرٍ (63) “ تو اس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا ، اگر میں اس کی نافرمانی کروں ؟ تم میرے کس کام آسکتے ہو ، سوائے اس کے کہ مجھے اور زیادہ خسارے میں ڈال دو ”۔ اگر میں تمہاری آرزوؤں کا خیال رکھوں تو میں عظیم خسارے میں مبتلا ہوجاؤں گا۔ میں اللہ کے غضب کا مستحق ہوجاؤں گا۔ اور منصب رسالت سے معزول کردیا جاؤں گا۔ دنیا میں بھی شرمندگی ہوگی اور آخرت میں بھی اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکوں گا۔ اور یہ ایک عظیم اور مسلسل خسارہ ہوگا۔ چناچہ یہ تباہ کن اور ناقابل برداشت گھاٹا ہوگا۔