سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
15:33
قال لم اكن لاسجد لبشر خلقته من صلصال من حما مسنون ٣٣
قَالَ لَمْ أَكُن لِّأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُۥ مِن صَلْصَـٰلٍۢ مِّنْ حَمَإٍۢ مَّسْنُونٍۢ ٣٣
قَالَ
لَمْ
اَكُنْ
لِّاَسْجُدَ
لِبَشَرٍ
خَلَقْتَهٗ
مِنْ
صَلْصَالٍ
مِّنْ
حَمَاٍ
مَّسْنُوْنٍ
۟
اس نے کہا : میرے لیے روا نہیں ہے کہ سجدہ کروں اس بشر کو جسے تو نے پیدا کیا ہے سنے ہوئے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 15:28 سے 15:33 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
ابلیس لعین کا انکار ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ ” آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کر دیا اور کفر و حسد انکار و تکبر فخر و غرور کیا “۔ «أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ» [7-الأعراف:12] ‏ ” صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں؟ “ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» [17-الاسراء:62] ‏ ” تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا “۔

ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ ” میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا “۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے سنا اور تسلیم کیا۔ مگر ابلیس جو پہلے کے منکروں میں سے تھا۔ اپنے پر جما رہا۔‏“ لیکن اس کا ثبوت ان سے نہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4312