سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
11:35
ام يقولون افتراه قل ان افتريته فعلي اجرامي وانا بريء مما تجرمون ٣٥
أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰهُ ۖ قُلْ إِنِ ٱفْتَرَيْتُهُۥ فَعَلَىَّ إِجْرَامِى وَأَنَا۠ بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تُجْرِمُونَ ٣٥
اَمْ
یَقُوْلُوْنَ
افْتَرٰىهُ ؕ
قُلْ
اِنِ
افْتَرَیْتُهٗ
فَعَلَیَّ
اِجْرَامِیْ
وَاَنَا
بَرِیْٓءٌ
مِّمَّا
تُجْرِمُوْنَ
۟۠
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (محمد) نے اس (قرآن) کو گھڑ لیا ہے ؟ آپ کہیے کہ اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہے تو اس کا وبال مجھ ہی پر آئے گا اور میں بری ہوں اس سے جو جرم تم کر رہے ہو
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
کفار کا الزام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا جواب ٭٭

یہ درمیانی کلام اس قصے کے بیچ میں اس کی تائید اور تقریر کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ” یہ کفار تجھ پر اس قرآن کے از خود گھڑ لینے کا الزام لگا رہے ہیں تو جواب دے کہ اگر ایسا ہے تو میرا گناہ مجھ پر ہے میں جانتا ہوں کہ اللہ کے عذاب کیسے کچھ ہیں؟ پھر کیسے ممکن ہے کہ میں اللہ پر جھوٹ افتراء گھڑ لوں؟ ہاں اپنے گناہوں کے ذمے دار تم آپ ہو “۔

صفحہ نمبر3837