سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
10:18
ويعبدون من دون الله ما لا يضرهم ولا ينفعهم ويقولون هاولاء شفعاونا عند الله قل اتنبيون الله بما لا يعلم في السماوات ولا في الارض سبحانه وتعالى عما يشركون ١٨
وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَـٰٓؤُلَآءِ شُفَعَـٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِ ۚ قُلْ أَتُنَبِّـُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ سُبْحَـٰنَهُۥ وَتَعَـٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ ١٨
وَیَعْبُدُوْنَ
مِنْ
دُوْنِ
اللّٰهِ
مَا
لَا
یَضُرُّهُمْ
وَلَا
یَنْفَعُهُمْ
وَیَقُوْلُوْنَ
هٰۤؤُلَآءِ
شُفَعَآؤُنَا
عِنْدَ
اللّٰهِ ؕ
قُلْ
اَتُنَبِّـُٔوْنَ
اللّٰهَ
بِمَا
لَا
یَعْلَمُ
فِی
السَّمٰوٰتِ
وَلَا
فِی
الْاَرْضِ ؕ
سُبْحٰنَهٗ
وَتَعٰلٰی
عَمَّا
یُشْرِكُوْنَ
۟
اور یہ لوگ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا یسی چیزوں کی جو نہ انہیں کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ نفع دے سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے ہاں۔ آپ ﷺ کہیے کہ کیا تم اللہ کو بتانا چاہتے ہو وہ شے جو وہ نہیں جانتا نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں ؟ وہ بہت پاک اور بلند ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 10:18 سے 10:19 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
شرک کے آغاز کی روداد ٭٭

مشرکوں کا خیال تھا کہ جن کو ہم پوجتے ہیں یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہوں گے اس غلط عقیدے کی قرآن کریم تردید فرماتا ہے کہ ” وہ کسی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ان کی شفاعت تمہارے کچھ کام نہ آئے گی۔ تم تو اللہ کو بھی سکھانا چاہتے ہو گویا جو چیز زمین آسمان میں وہ نہیں جانتا تم اس کی خبر اسے دینا چاہتے ہو۔ یعنی یہ خیال غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک و کفر سے پاک ہے وہ برتر و بری ہے “۔

سنو پہلے سب کے سب لوگ اسلام پر تھے۔ آدم علیہ السلام سے لے کر نوح علیہ السلام تک دس صدیاں وہ سب لوگ مسلمان تھے۔ پھر اختلاف رونما ہوا اور لوگوں نے تیری میری پرستش شروع کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کے سلسلوں کو جاری کیا تاکہ «لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ» [8-الأنفال:42] ‏ ” ثبوت و دلیل کے بعد جس کا جی چاہے زندہ رہے جس کا جی چاہے مر جائے “۔

چونکہ اللہ کی طرف سے فیصلے کا دن مقرر ہے۔ حجت تمام کرنے سے پہلے عذاب نہیں ہوتا اس لیے موت مؤخر ہے۔ ورنہ ابھی ہی حساب چکا دیا جاتا۔ مومن کامیاب رہتے اور کافر ناکام۔

صفحہ نمبر3670