سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
10:16
قل لو شاء الله ما تلوته عليكم ولا ادراكم به فقد لبثت فيكم عمرا من قبله افلا تعقلون ١٦
قُل لَّوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا تَلَوْتُهُۥ عَلَيْكُمْ وَلَآ أَدْرَىٰكُم بِهِۦ ۖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًۭا مِّن قَبْلِهِۦٓ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ١٦
قُلْ
لَّوْ
شَآءَ
اللّٰهُ
مَا
تَلَوْتُهٗ
عَلَیْكُمْ
وَلَاۤ
اَدْرٰىكُمْ
بِهٖ ۖؗ
فَقَدْ
لَبِثْتُ
فِیْكُمْ
عُمُرًا
مِّنْ
قَبْلِهٖ ؕ
اَفَلَا
تَعْقِلُوْنَ
۟
آپ ﷺ (ان سے) کہیے کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ میں یہ قرآن تمہیں پڑھ کر سناتا اور نہ وہ تمہیں اس سے واقف کرتا میں تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں اس سے پہلے۔ تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے !
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 10:15 سے 10:16 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
کفار کی بدترین حجتیں ٭٭

مکے کے کفار کا بغض دیکھئیے قرآن سن کر کہنے لگے، اسے تو بدل لا، بلکہ کوئی اور ہی لا۔ تو جواب دے کہ یہ میرے بس کی بات نہیں میں تو اللہ کا غلام ہوں اس کا رسول ہوں اس کا کہا کہتا ہوں۔ اگر میں ایسا کروں تو قیامت کے عذاب کا مجھے ڈر ہے۔

دیکھو اس بات کی دلیل یہ کیا کم ہے؟ کہ میں ایک بے پڑھا لکھا شخص ہوں تم لوگ استاد کلام ہو لیکن پھر بھی اس کا معروضہ اور مقابلہ نہیں کرسکتے۔ میری صداقت و امانت کے تم خود قائل ہو۔ میری دشمنی کے باوجود تم آج تک مجھ پر انگلی ٹکا نہیں سکتے۔ اس سے پہلے میں تم میں اپنی عمر کا بڑا حصہ گزار چکا ہوں۔ کیا پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے؟ شاہ روم ہرقل نے ابوسفیان اور ان کے ساتھیوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں دریافت کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا دعویٰ نبوت سے پہلے کبھی تم نے اسے جھوٹ کی تہمت لگائی ہے؟ تو اسے باوجود دشمن اور کافر ہونے کے کہنا پڑا کہ نہیں، یہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت جو دشمنوں کی زبان سے بھی بے ساختہ ظاہر ہوتی تھی۔ ہرقل نے نتیجہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں کیسے مان لوں کہ لوگوں کے معاملات میں تو جھوٹ نہ بولے اور اللہ پر جھوٹ بہتان باندھ لے۔ [صحیح بخاری:7] ‏

جعفر بن ابوطالب نے دربار نجاشی میں شاہ حبش سے فرمایا تھا ”ہم میں اللہ نے جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ہے ہم اس کی صدقت امانت نسب وغیرہ سب کچھ جانتے ہیں وہ نبوت سے پہلے ہم میں چالیس سال گزار چکے ہیں۔‏“ سعید بن مسیب سے تنتالیس سال مروی ہیں لیکن مشہور قول پہلا ہی ہے۔

صفحہ نمبر3663