سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
21:94
فمن يعمل من الصالحات وهو مومن فلا كفران لسعيه وانا له كاتبون ٩٤
فَمَن يَعْمَلْ مِنَ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْيِهِۦ وَإِنَّا لَهُۥ كَـٰتِبُونَ ٩٤
فَمَنْ
یَّعْمَلْ
مِنَ
الصّٰلِحٰتِ
وَهُوَ
مُؤْمِنٌ
فَلَا
كُفْرَانَ
لِسَعْیِهٖ ۚ
وَاِنَّا
لَهٗ
كٰتِبُوْنَ
۟
تو جو کوئی بھی نیک عمل کرے گا اور وہ مؤمن بھی ہوگا تو اس کی سعی و کوشش کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور ہم اس کے لیے (اس کے اعمال کو) لکھ رہے ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 21:92 سے 21:94 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
تمام شریعتوں کی روح توحید ٭٭

فرمان ہے کہ ” تم سب کا دین ایک ہی ہے۔ اوامر ونواہی کے احکام تم سب میں یکساں ہیں “۔

«ھٰذِہٖ» اسم ہے «اِنَّ» کا اور «اُمَّتُکُمۡ» خبر ہے اور «اُمَّةً وَّاحِدَةً» حال ہے۔ یعنی یہ شریعت جو بیان ہوئی تم سب کی متفق علیہ شریعت ہے۔ جس کا اصلی مقصود توحید الٰہی ہے جیسے آیت «يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ وَإِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَ‌بُّكُمْ فَاتَّقُونِ» [23-المؤمنون:52-51] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں عیسیٰ بن مریم علیہما السلام سے اور لوگوں کی بہ نسبت زیادہ قریب ہوں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور انبیاء علیہم السلام علاتی بھائیوں (‏کی طرح)‏ ہیں۔ ان کے مسائل میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن دین سب کا ایک ہی ہے ۔ [صحیح بخاری:3443] ‏

جیسے فرمان قرآن ہے آیت «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا» [5-المائدة:48] ‏ ” ہر ایک کی راہ اور طریقہ ہے “۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا بعض اپنوں نبیوں پر ایمان لائے اور بعض نہ لائے۔ قیامت کے دن سب کا لوٹنا ہماری طرف ہے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا نیکوں کو نیک بدلہ اور بروں کو بری سزا۔ جس کے دل میں ایمان ہو اور جس کے اعمال نیک ہوں اس کے اعمال اکارت نہ ہوں گے۔

جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا» [18-الكهف:30] ‏ ” نیک کام کرنے والوں کا اجر ہم ضائع نہیں کرتے۔ ایسے اعمال کی قدردانی کرتے ہیں ایک ذرے کے برابر ہم ظلم روا نہیں رکھتے تمام اعمال لکھ لیتے ہیں کوئی چیز چھوڑتے نہیں “۔

صفحہ نمبر5513