سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر بیان القرآن يوسف کی تفسیر، آیت 23

12:23
وراودته التي هو في بيتها عن نفسه وغلقت الابواب وقالت هيت لك قال معاذ الله انه ربي احسن مثواي انه لا يفلح الظالمون ٢٣
وَرَٰوَدَتْهُ ٱلَّتِى هُوَ فِى بَيْتِهَا عَن نَّفْسِهِۦ وَغَلَّقَتِ ٱلْأَبْوَٰبَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ ۚ قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ رَبِّىٓ أَحْسَنَ مَثْوَاىَ ۖ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ٢٣
وَرَاوَدَتْهُ
الَّتِیْ
هُوَ
فِیْ
بَیْتِهَا
عَنْ
نَّفْسِهٖ
وَغَلَّقَتِ
الْاَبْوَابَ
وَقَالَتْ
هَیْتَ
لَكَ ؕ
قَالَ
مَعَاذَ
اللّٰهِ
اِنَّهٗ
رَبِّیْۤ
اَحْسَنَ
مَثْوَایَ ؕ
اِنَّهٗ
لَا
یُفْلِحُ
الظّٰلِمُوْنَ
۟
جس عورت کے گھر میں وہ تھا وہ اُس پر ڈورے ڈالنے لگی اور ایک روز دروازے بند کر کے بولی”آجا۔“ یُوسف نے کہا”خدا کی پناہ، میرے ربّ نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی(اور میں یہ کام کروں!)ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پایا کرتے۔“1
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

آیت 23 وَرَاوَدَتْهُ الَّتِيْ هُوَ فِيْ بَيْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ یعنی عزیز مصر کی بیوی آپ پر فریفتہ ہوگئی۔ قرآن میں اس کا نام مذکور نہیں البتہ تورات میں اس کا نام زلیخا بتایا گیا ہے۔قَالَ مَعَاذ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّيْٓ اَحْسَنَ مَثْوَايَ یہاں پر ”ربّ“ کے دونوں معنی لیے جاسکتے ہیں اللہ بھی اور آقا بھی۔ چناچہ اس فقرے کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ وہ اللہ میرا رب ہے اور اس نے میرے لیے بہت اچھے ٹھکانے کا انتظام کیا ہے میں اس کی نافرمانی کا کیسے سوچ سکتا ہوں ! دوسرے معنی میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ کا خاوند میرا آقا ہے وہ میرا محسن اور مربی بھی ہے اس نے مجھے اپنے گھر میں بہت عزت و اکرام سے رکھا ہے اور میں اس کی خیانت کر کے اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاؤں یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا ! یہ دوسرا مفہوم اس لیے بھی زیادہ مناسب ہے کہ ”رب“ کا لفظ اس سورت میں آقا اور بادشاہ کے لیے متعدد بار استعمال ہوا ہے۔