سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
71:10
۞ واتل عليهم نبا نوح اذ قال لقومه يا قوم ان كان كبر عليكم مقامي وتذكيري بايات الله فعلى الله توكلت فاجمعوا امركم وشركاءكم ثم لا يكن امركم عليكم غمة ثم اقضوا الي ولا تنظرون ٧١
۞ وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ نُوحٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦ يَـٰقَوْمِ إِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُم مَّقَامِى وَتَذْكِيرِى بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ فَعَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلْتُ فَأَجْمِعُوٓا۟ أَمْرَكُمْ وَشُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةًۭ ثُمَّ ٱقْضُوٓا۟ إِلَىَّ وَلَا تُنظِرُونِ ٧١
۞ وَاتۡلُ
عَلَيۡهِمۡ
نَبَاَ
نُوۡحٍ​ۘ
اِذۡ
قَالَ
لِقَوۡمِهٖ
يٰقَوۡمِ
اِنۡ
كَانَ
كَبُرَ
عَلَيۡكُمۡ
مَّقَامِىۡ
وَتَذۡكِيۡرِىۡ
بِاٰيٰتِ
اللّٰهِ
فَعَلَى
اللّٰهِ
تَوَكَّلۡتُ
فَاَجۡمِعُوۡۤا
اَمۡرَكُمۡ
وَشُرَكَآءَكُمۡ
ثُمَّ
لَا
يَكُنۡ
اَمۡرُكُمۡ
عَلَيۡكُمۡ
غُمَّةً
ثُمَّ
اقۡضُوۡۤا
اِلَىَّ
وَ لَا
تُنۡظِرُوۡنِ‏
٧١
اور ان کو سنائیے نوح کی خبر۔ جب اس نے کہا اپنی قوم سے کہ اے میری قوم کے لوگو ! اگر تم پر بڑا بھاری گزر رہا ہے میرا کھڑا ہونا اور اللہ کی آیات کے ساتھ نصیحت کرنا تو میں نے بس اللہ پر توکل کرلیا ہے پس تم جمع کرلو اپنے سارے ذرائع اور اپنے شریکوں کو (بھی بلا لو) پھر تم پر تمہارا معاملہ کسی اشتباہ میں نہ رہ جائے پھر جو فیصلہ میرے بارے میں کرنا ہے کر گزرو اور مجھے کوئی مہلت نہ دو۔
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
قیراط
آپ 10:71 سے 10:73 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
نوح علیہ السلام کی قوم کا کردار ٭٭

” اے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو انہیں نوح علیہ السلام کے واقعہ کی خبر دے کہ ان کا اور ان کی قوم کا کیا حشر ہوا جس طرح کفار مکہ تجھے جھٹلاتے اور ستاتے ہیں، قوم نوح علیہ السلام نے بھی یہی وطیرہ اختیار کر رکھا تھا۔ بالآخر سب کے سب غرق کر دیئے گئے، سارے کافر دریا برد ہوگئے۔ پس انہیں بھی خبردار رہنا چاہیئے اور میری پکڑ سے بے خوف نہ ہونا چاہیئے۔ اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں “۔

نوح علیہ السلام نے ایک مرتبہ ان سے صاف فرما دیا کہ ”اگر تم پر یہ گراں گزرتا ہے کہ میں تم میں رہتا ہوں اور تمہیں اللہ کی باتیں سنا رہا ہوں، تم اس سے چڑتے ہو اور مجھے نقصان پہنچانے درپے ہو تو سنو میں صاف کہتا ہوں کہ میں تم سے نڈر ہوں۔ مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔ میں تمہیں کوئی چیز نہیں سمجھتا۔ میں تم سے مطلقاً نہیں ڈرتا۔ تم سے جو ہو سکے کر لو۔ میرا جو بگاڑ سکو بگاڑ لو۔ تم اپنے ساتھ اپنے شریکوں اور اپنے جھوٹے معبودوں کو بھی بلا لو اور مل جل کر مشورے کر کے بات کھول کر پوری قوت کے ساتھ مجھ پر حملہ کرو، تمہیں قسم ہے جو میرا بگاڑ سکتے ہو اس میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو، مجھے بالکل مہلت نہ دو، اچانک گھیر لو، میں بالکل بے خوف ہوں، اس لیے کہ تمہاری روش کو میں باطل جانتا ہوں۔ میں حق پر ہوں، حق کا ساتھی اللہ ہوتا ہے، میرا بھروسہ اسی کی عظیم الشان ذات پر ہے، مجھے اس کی قدرت کے بڑائی معلوم ہے۔‏“

یہی ہود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ «إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ‏ [11-هود:54-56] ‏ ” اللہ کے سوا جس جس کی بھی تم پوجا کر رہے ہو۔ میں تم سے اور ان سے بالکل بری ہوں، خوب کان کھول کر سن لو، اللہ بھی سن رہا ہے تم سب مل کر میرے خلاف کوشش کرو، میں تو تم سے مہلت بھی نہیں مانگتا۔ میرا بھروسہ اپنے اور تمہارے حقیقی مربی پر ہے “۔

صفحہ نمبر3739

حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ”اگر تم اب بھی مجھے جھٹلاؤ میری اطاعت سے منہ پھیر لو تو میرا اجر ضائع نہیں جائے گا، کیونکہ میرا اجر دینے والا میرا مربی ہے، مجھے تم سے کچھ نہیں لینا۔ میری خیر خواہی، میری تبلیغ کسی معاوضے کی بنا پر نہیں، مجھے تو جو اللہ کا حکم ہے میں اس کی بجا آوری میں لگا ہوا ہوں، مجھے اس کی طرف سے مسلمان ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ سو «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» میں مسلمان ہوں، اللہ کا پورا فرمان بردار ہوں۔‏“

تمام نبیوں کا دین اول سے آخر تک صرف اسلام ہی رہا ہے، گو احکامات میں قدرے اختلاف رہا ہو، جیسے فرمان ہے «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا» [5-المائدہ:48] ‏ ” ہر ایک کے لیے راہ اور طریقہ ہے “۔ «وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» [27-النمل:91] ‏ ” دیکھئیے یہ نوح علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں “، «إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» [2-البقرة:131،132] ‏ ” یہ ہیں ابراہیم علیہ السلام جو اپنے آپ کو مسلم بتاتے ہیں۔ اللہ ان سے فرماتا ہے اسلام لا۔ وہ جواب دیتے ہیں رب العلمین کے لیے میں اسلام لایا “۔

اسی کی وصیت آپ علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام اپنی اولاد کو کرتے ہیں کہ «وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» [2-البقرۃ:132] ‏ ” اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لیے اسی دین کو پسند فرما لیا ہے۔ خبردار یاد رکھنا مسلم ہونے کی حالت میں ہی موت آئے “۔

یوسف علیہ السلام اپنی دعا میں فرماتے ہیں «تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ» [12-يوسف:101] ‏ ” اللہ مجھے اسلام کی حالت میں موت دینا “۔

موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ «يَا قَوْمِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّـهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ» [10-یونس:84] ‏ ” اگر تم مسلمان ہو تو اللہ پر توکل کرو “۔

صفحہ نمبر3740

آپ علیہ السلام کے ہاتھ پر ایمان قبول کرنے والے جادوگر اللہ سے دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں ”تو ہمیں مسلمان اٹھانا۔‏“ بلقیس کہتی ہیں «رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» [27-النمل:44] ‏ ” میں سلیمان علیہ السلام کے ہاتھ پر مسلمان ہوتی ہوں “۔

قرآن فرماتا ہے ہے کہ «إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا» [5-المائدہ:44] ‏ ” تورات کے مطابق وہ انبیاء حکم فرماتے ہیں جو مسلمان ہیں “۔

«وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى الْحَوَارِيِّينَ أَنْ آمِنُوا بِي وَبِرَسُولِي قَالُوا آمَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ» [5-المائدہ:111] ‏ ” حواری عیسیٰ علیہ السلام سے کہتے ہیں آپ علیہ السلام گواہ رہیے ہم مسلمان ہیں “۔

خاتم الرسل سید البشر صل اللہ علیہ وسلم نماز کے شروع کی دعا کے آخر میں فرماتے ہیں «قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» [6-الأنعام:162، 163] ‏ ” میں اول مسلمان ہوں یعنی اس امت میں “۔

ایک حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «نَحْنُ مَعَاشِر الْأَنْبِيَاء أَوْلَاد عَلَّات دِيننَا وَاحِد» ہم انبیاء ایسے ہیں جیسے ایک باپ کی اولاد دین ایک اور بعض بعض احکام جدا گانہ ۔

پس توحید میں سب یکساں ہیں گو فروعی احکام میں علیحدگی ہو۔ جیسے وہ بھائی جن کا باپ ایک ہو مائیں جدا جدا ہوں۔ پھر فرماتا ہے ” قوم نوح نے نوح نبی کریم علیہ السلام کو نہ مانا بلکہ انہیں جھوٹا کہا آخر ہم نے انہیں غرق کر دیا۔ نوح نبی علیہ السلام کو مع ایمانداروں کے اس بدترین عذاب سے ہم نے صاف بچا لیا۔ کشتی میں سوار کر کے انہیں طوفان سے محفوظ رکھ لیا۔ وہی وہ زمین پر باقی رہے پس ہماری اس قدرت کو دیکھ لے کہ کس طرح ظالموں کا نام و نشان مٹا دیا اور کس طرح مومنوں کو بچا لیا “۔

صفحہ نمبر3741
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں