سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر ابنِ کثیر يونس کی تفسیر، آیت 7

10:7
ان الذين لا يرجون لقاءنا ورضوا بالحياة الدنيا واطمانوا بها والذين هم عن اياتنا غافلون ٧
إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا وَرَضُوا۟ بِٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَٱطْمَأَنُّوا۟ بِهَا وَٱلَّذِينَ هُمْ عَنْ ءَايَـٰتِنَا غَـٰفِلُونَ ٧
اِنَّ
الَّذِیْنَ
لَا
یَرْجُوْنَ
لِقَآءَنَا
وَرَضُوْا
بِالْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا
وَاطْمَاَنُّوْا
بِهَا
وَالَّذِیْنَ
هُمْ
عَنْ
اٰیٰتِنَا
غٰفِلُوْنَ
۟ۙ
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہو گئے ہیں، اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 10:7 سے 10:8 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
نادان و محروم لوگ ٭٭

جو لوگ قیامت کے منکر ہیں، جو اللہ کی ملاقات کے امیدوار نہیں، جو اس دنیا پر خوش ہو گئے ہیں، اسی پر دل لگا لیا ہے، نہ اس زندگی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، نہ اس زندگی کو سود مند بناتے ہیں اور اس پر مطمئن ہیں۔ اللہ کی پیدا کردہ نشانیوں سے غافل ہیں، اللہ کی نازل کردہ آیتوں میں غور فکر نہیں کرتے، ان کی آخری جگہ جہنم ہے، جو ان کی خطاؤں اور گناہوں کا بدلہ ہے جو ان کے کفر و شرک کی جزا ہے۔

صفحہ نمبر3654