سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
20:90
ولقد قال لهم هارون من قبل يا قوم انما فتنتم به وان ربكم الرحمان فاتبعوني واطيعوا امري ٩٠
وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَـٰرُونُ مِن قَبْلُ يَـٰقَوْمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِۦ ۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ ٱلرَّحْمَـٰنُ فَٱتَّبِعُونِى وَأَطِيعُوٓا۟ أَمْرِى ٩٠
وَلَقَدْ
قَالَ
لَهُمْ
هٰرُوْنُ
مِنْ
قَبْلُ
یٰقَوْمِ
اِنَّمَا
فُتِنْتُمْ
بِهٖ ۚ
وَاِنَّ
رَبَّكُمُ
الرَّحْمٰنُ
فَاتَّبِعُوْنِیْ
وَاَطِیْعُوْۤا
اَمْرِیْ
۟
اور ہارون ؑ انہیں پہلے ہی کہہ چکا تھا اے میری قوم کے لوگو ! تمہیں تو اس (بچھڑے) کے ذریعے سے فتنے میں ڈالا گیا ہے اور یقیناً تمہارا رب (یہ بچھڑا نہیں بلکہ) رحمن ہے چناچہ تم لوگ میری پیروی کرو اور میری بات مانو
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 20:90 سے 20:91 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
بنی اسرائیل اور ہارون علیہ السلام ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کے آنے سے پہلے ہارون علیہ السلام نے انہیں ہر چند سمجھایا بجھایا کہ دیکھو فتنے میں نہ پڑو۔ اللہ رحمان کے سوا اور کسی کے سامنے نہ جھکو۔ وہ ہرچیز کا خالق و مالک ہے، سب کا اندازہ مقرر کرنے والا وہی ہے، وہی عرش مجید کا مالک ہے، وہی جو چاہے کر گزرنے والا ہے۔ تم میری تابعداری اور حکم برداری کرتے رہو۔ جو میں کہوں وہ بجا لاؤ، جس سے روکوں رک جاؤ۔ لیکن ان سرکشوں نے جواب دیا کہ موسیٰ علیہ السلام کی سن کر تو خیر ہم مان لیں گے۔ تب تک تو ہم اس کی پرستش نہیں چھوڑیں گے۔ چنانچہ لڑنے اور مرنے مارنے کے واسطے تیار ہو گئے۔

صفحہ نمبر5315