سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر بیان القرآن طه کی تفسیر، آیت 81

20:81
كلوا من طيبات ما رزقناكم ولا تطغوا فيه فيحل عليكم غضبي ومن يحلل عليه غضبي فقد هوى ٨١
كُلُوا۟ مِن طَيِّبَـٰتِ مَا رَزَقْنَـٰكُمْ وَلَا تَطْغَوْا۟ فِيهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِى ۖ وَمَن يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِى فَقَدْ هَوَىٰ ٨١
كُلُوْا
مِنْ
طَیِّبٰتِ
مَا
رَزَقْنٰكُمْ
وَلَا
تَطْغَوْا
فِیْهِ
فَیَحِلَّ
عَلَیْكُمْ
غَضَبِیْ ۚ
وَمَنْ
یَّحْلِلْ
عَلَیْهِ
غَضَبِیْ
فَقَدْ
هَوٰی
۟
کھاؤ ہمارا دیا ہوا پاک رزق اور اسے کھا کر سرکشی نہ کرو، ورنہ تم پر میرا غضب ٹوٹ پڑے گا اور جس پر میرا غضب ٹوٹا وہ پھر گر کر ہی رہا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 20:81 سے 20:82 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت 81 کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ وَلَا تَطْغَوْا فِیْہِ ”لیکن منع کرنے کے باوجود بنی اسرائیل نے اس معاملے میں زیادتی کی۔ زیادتی کی ایک صورت تو یہ تھی کہ وہ اسے سینت سینت کر رکھتے تھے ‘ اس خدشے سے کہ شاید کل یہ نازل نہ ہو اور یوں توکل علی اللہ کی نفی کرتے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس میں اس طرح بھی زیادتی کی کہ کچھ ہی عرصہ بعد اس کی ناقدری کرتے ہوئے اس کے مقابلے میں دوسری چیزوں کا مطالبہ شروع کردیا۔