سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
50:8
تبصرة وذكرى لكل عبد منيب ٨
تَبْصِرَةًۭ وَذِكْرَىٰ لِكُلِّ عَبْدٍۢ مُّنِيبٍۢ ٨
تَبْصِرَةً
وَّذِكْرٰی
لِكُلِّ
عَبْدٍ
مُّنِیْبٍ
۟
یہ اللہ کی نشانیاں ہیں) سجھانے اور یاد دہانی کرانے کو ہر اس بندے کے لیے جو رجوع رکھے ہوئے ہو۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 50:6 سے 50:15 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

قرآن نے تاریخ کا جو تصور پیش کیا ہے، اس کے مطابق یہاں بار بار ایسا ہوا ہے کہ پیغمبروں کے انکار کے نتیجہ میں ان کی مخاطب قومیں ہلاک کردی گئیں۔ یہاں انہیں ہلاک شدہ قوموں میں سے کچھ قوموں کا ذکر بطور مثال فرمایا گیا ہے۔ قوموں کی یہ ہلاکت در اصل آخرت کا ایک حصہ ہے۔ منکرین حق کے لیے جو عذاب آخرت میں مقدر ہے اس کا ایک جزء اسی آج کی دنیا میں دکھا دیا جاتا ہے۔

دنیا کی پہلی تخلیق اس کی دوسری تخلیق کے امکان کو ثابت کر رہی ہے۔ اگر آدمی سنجیدہ ہو تو آخرت کو ماننے کے لیے اس کے بعد اسے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔