سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
79:37
فاما من طغى ٣٧
فَأَمَّا مَن طَغَىٰ ٣٧
فَاَمَّا
مَنْ
طَغٰی
۟ۙ
پس جس نے سرکشی کی تھی۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 79:34 سے 79:37 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات ٭٭

«طَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ» سے مراد قیامت کا دن ہے اس لیے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہو گا۔

جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ» ‏ [54-القمر:46] ‏ یعنی ” قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے “، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کر لے گا۔

جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» ‏ [89-الفجر:23] ‏ یعنی ” اس دن آدمی نصیحت حاصل کر لے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے “۔

10263