سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
63:4
۞ واذا رايتهم تعجبك اجسامهم وان يقولوا تسمع لقولهم كانهم خشب مسندة يحسبون كل صيحة عليهم هم العدو فاحذرهم قاتلهم الله انى يوفكون ٤
۞ وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ ۖ وَإِن يَقُولُوا۟ تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ ۖ كَأَنَّهُمْ خُشُبٌۭ مُّسَنَّدَةٌۭ ۖ يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ ۚ هُمُ ٱلْعَدُوُّ فَٱحْذَرْهُمْ ۚ قَـٰتَلَهُمُ ٱللَّهُ ۖ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ ٤
وَاِذَا
رَاَیْتَهُمْ
تُعْجِبُكَ
اَجْسَامُهُمْ ؕ
وَاِنْ
یَّقُوْلُوْا
تَسْمَعْ
لِقَوْلِهِمْ ؕ
كَاَنَّهُمْ
خُشُبٌ
مُّسَنَّدَةٌ ؕ
یَحْسَبُوْنَ
كُلَّ
صَیْحَةٍ
عَلَیْهِمْ ؕ
هُمُ
الْعَدُوُّ
فَاحْذَرْهُمْ ؕ
قٰتَلَهُمُ
اللّٰهُ ؗ
اَنّٰی
یُؤْفَكُوْنَ
۟
(اے نبی ﷺ !) جب آپ انہیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپ کو بڑے اچھے لگتے ہیں۔ اور اگر وہ بات کرتے ہیں تو آپ ﷺ ان کی بات سنتے ہیں۔ (لیکن اصل میں) یہ دیوار سے لگائی ہوئی خشک لکڑیوں کی مانند ہیں۔ یہ ہر زور کی آواز کو اپنے ہی اوپر گمان کرتے ہیں۔ اللہ ان کو ہلاک کرے یہ کہاں سے پھرائے جا رہے ہیں !
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
علامات منافقین ٭٭

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”منافقوں کی بہت سی علامتیں ہیں جن سے وہ پہچان لیے جاتے ہیں ان کا سلام لعنت ہے، ان کی خوراک لوٹ مار ہے، ان کی غنیمت حرام اور خیانت ہے، وہ مسجدوں کی نزدیکی ناپسند کرتے ہیں، وہ نمازوں کے لیے آخری وقت آتے ہیں، تکبر اور نحوت والے ہوتے ہیں، نرمی اور سلوک تواضع اور انکساری سے محروم ہوتے ہیں، نہ خود ان کاموں کو کریں، نہ دوسروں کے ان کاموں کو وقعت کی نگاہ سے دیکھیں رات کی لکڑیاں اور دن کے شور و غل کرنے والے اور روایت میں ہے دن کو خوب کھانے پینے والے اور رات کو خشک لکڑیوں کی طرح پڑ رہنے والے“ ۔ [مسند احمد:293/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر9521