سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: محمد 47:10

47:10
۞ افلم يسيروا في الارض فينظروا كيف كان عاقبة الذين من قبلهم دمر الله عليهم وللكافرين امثالها ١٠
۞ أَفَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ دَمَّرَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ ۖ وَلِلْكَـٰفِرِينَ أَمْثَـٰلُهَا ١٠
اَفَلَمْ
یَسِیْرُوْا
فِی
الْاَرْضِ
فَیَنْظُرُوْا
كَیْفَ
كَانَ
عَاقِبَةُ
الَّذِیْنَ
مِنْ
قَبْلِهِمْ ؕ
دَمَّرَ
اللّٰهُ
عَلَیْهِمْ ؗ
وَلِلْكٰفِرِیْنَ
اَمْثَالُهَا
۟
تو کیا یہ زمین میں گھومے پھرے نہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے اللہ نے ان پر ہلاکت کو مسلط کردیا اور ان کافروں کے لیے بھی ان ہی کی مثالیں ہوں گی۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

وَلِلْكَافِرِ‌ينَ أَمْثَالُهَا (And [ ready ] for [ these ] disbelievers are the likes thereof. - 47:10). Grammatically, the article "alif lam" in al-kafirina" in this context is used to indicate some specific disbelievers, and refers to the infidels of Makkah. The purpose of this sentence is to warn them: as the previous generations were punished for their iniquity, so will you meet similar fate for your iniquitous behavior. Do not be unconcerned!