سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: مريم 19:85

19:85
يوم نحشر المتقين الى الرحمان وفدا ٨٥
يَوْمَ نَحْشُرُ ٱلْمُتَّقِينَ إِلَى ٱلرَّحْمَـٰنِ وَفْدًۭا ٨٥
یَوْمَ
نَحْشُرُ
الْمُتَّقِیْنَ
اِلَی
الرَّحْمٰنِ
وَفْدًا
۟ۙ
(ذرا تصور کریں اس دن کا) جس دن اہل تقویٰ کو ہم جمع کر کے لائیں گے رحمن کی طرف وفود کی صورت میں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 19:83 سے 19:87 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آدمی کے سامنے حق اپنی واضح صورت میں آئے مگر وہ اس کو نظر انداز کردے تو ایسا عمل شیطان کو اپنے اندر راہ دینے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کے بعد آدمی کا ذہن بالکل مخالف سمت میں چل پڑتاہے۔ اب ہر دلیل اس کے ذہن میں جاکر الٹ جاتی ہے۔ خدا کی نشانیاں اس کے سامنے آتی ہیں۔ مگر وہ ان کی خود ساختہ توجیہہ کرکے ان کو اپنی سرکشی کی غذا بنا لیتاہے۔

جو شخص جھوٹے سہاروں کو اپنا سہارا سمجھ لے وہ ہمیشہ اسی قسم کی نادانی میں مبتلا ہوجاتاہے۔ مگر جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ صرف اللہ کو اپنا سہارا سمجھتے ہیں۔ اللہ کا ڈر ان کی نظر میں ان تمام ہستیوں کو حذف کردیتاہے جن کو جھوٹا سہارا بنا کر لوگ گمراہ ہوتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میںاللہ کے باعزت مہمان بنائے جائیںگے۔