سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
31:4
الذين يقيمون الصلاة ويوتون الزكاة وهم بالاخرة هم يوقنون ٤
ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ٤
الَّذِیْنَ
یُقِیْمُوْنَ
الصَّلٰوةَ
وَیُؤْتُوْنَ
الزَّكٰوةَ
وَهُمْ
بِالْاٰخِرَةِ
هُمْ
یُوْقِنُوْنَ
۟ؕ
جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یہی لوگ پختہ یقین رکھتے ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 31:1 سے 31:5 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
ہدایت یافتہ کتاب ٭٭

سورۂ بقرہ کی تفسیر کے اول میں ہی حروف مقطعات کے معنی اور مطلب کی توضیح کر دی گئی ہے۔ یہ قرآن ہدایت، شفاء اور رحمت ہے اور ان نیک کاروں کے لیے جو شریعت کے پورے پابند ہیں۔ نمازادا کرتے ہیں ارکان اوقات وغیرہ کی حفاظت کے ساتھ ہی نوافل سنت وغیرہ بھی نہیں چھوڑتے۔ فرض زکوٰۃ ادا کرتے ہیں صلہ ر، حمی سلوک واحسان، سخاوت اور داد و دہش کرتے رہتے ہیں۔ آخرت کی جزاء کا انہیں کامل یقین ہے اس لیے اللہ کی طرف پوری رغبت کرتے ہیں ثواب کے کام کرتے ہیں اور رب کے اجر پر نظریں رکھتے ہیں۔ نہ ریاکاری کرتے ہیں نہ لوگوں سے داد چاہتے ہیں۔ ان اوصاف والے راہ یافتہ ہیں۔ راہ اللہ پر لگادیئے گئے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو دین ودنیا میں فلاح نجات اور کامیابی حاصل کریں گے۔

صفحہ نمبر6832