سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
16:71
والله فضل بعضكم على بعض في الرزق فما الذين فضلوا برادي رزقهم على ما ملكت ايمانهم فهم فيه سواء افبنعمة الله يجحدون ٧١
وَٱللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ فِى ٱلرِّزْقِ ۚ فَمَا ٱلَّذِينَ فُضِّلُوا۟ بِرَآدِّى رِزْقِهِمْ عَلَىٰ مَا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَآءٌ ۚ أَفَبِنِعْمَةِ ٱللَّهِ يَجْحَدُونَ ٧١
وَاللّٰهُ
فَضَّلَ
بَعْضَكُمْ
عَلٰی
بَعْضٍ
فِی
الرِّزْقِ ۚ
فَمَا
الَّذِیْنَ
فُضِّلُوْا
بِرَآدِّیْ
رِزْقِهِمْ
عَلٰی
مَا
مَلَكَتْ
اَیْمَانُهُمْ
فَهُمْ
فِیْهِ
سَوَآءٌ ؕ
اَفَبِنِعْمَةِ
اللّٰهِ
یَجْحَدُوْنَ
۟
اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی ہے تو نہیں ہیں وہ لوگ جنہیں (رزق میں) فضیلت دی گئی ہے لوٹانے والے اپنا رزق اپنے غلاموں کو کہ وہ ہوجائیں اس میں برابر تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمت کا انکار کر رہے ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
مشرکین کی جہالت کا ایک انداز ٭٭

مشرکین کی جہالت اور ان کے کفر کا بیان ہو رہا ہے کہ اپنے معبودوں کو اللہ کے غلام جاننے کے باوجود ان کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں۔ چنانچہ حج کے موقع پر وہ کہا کرتے تھے «(‏لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ)‏» یعنی اے اللہ میں تیرے پاس حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ جو خود تیرے غلام ہیں ان کا اور ان کی ماتحت چیزوں کا اصلی مالک تو ہی ہے۔ [صحیح مسلم:1185] ‏ پس اللہ تعالیٰ انہیں الزام دیتا ہے کہ ” جب تم اپنے غلاموں کی اپنی برابری اور اپنے مال میں شرکت پسند نہیں کرتے تو پھر میرے غلاموں کو میری الوہیت میں کیسے شریک ٹھہرا رہے ہو؟ “

یہی مضمون آیت «ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ» [30-الروم:28] ‏، میں بیان ہوا ہے، کہ ” جب تم اپنے غلاموں کو اپنے مال میں اپنی بیویوں میں اپنا شریک بنانے سے نفرت کرتے ہو تو پھر میرے غلاموں کو میری الوہیت میں کیسے شریک سمجھ رہے ہو؟ “ یہی اللہ کی نعمتوں سے انکار ہے کہ اللہ کے لیے وہ پسند کرنا، جو اپنے لیے بھی پسند نہ ہو۔

یہ ہے مثال معبودان باطل کی۔ جب تم خود اس سے الگ ہو پھر اللہ تو اس سے بہت زیادہ بیزار ہے۔ رب کی نعمتوں کا کفر اور کیا ہوگا کہ کھیتیاں چوپائے ایک اللہ کے پیدا کئے ہوئے اور تم انہیں اس کے سوا اوروں کے نام سے منسوب کرو۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو ایک رسالہ لکھا کہ اپنی روزی پر قناعت اختیار کرو اللہ تعالیٰ نے ایک سے زیادہ امیر کر رکھا ہے یہ بھی اس کی طرف سے ایک آزمائش ہے کہ وہ دیکھے کہ امیر امراء کس طرح شکر الٰہی ادا کرتے ہیں اور جو حقوق دوسروں کے ان پر جناب باری نے مقرر کئے ہیں کہاں تک انہیں ادا کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر4488