سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
6:25
قل انزله الذي يعلم السر في السماوات والارض انه كان غفورا رحيما ٦
قُلْ أَنزَلَهُ ٱلَّذِى يَعْلَمُ ٱلسِّرَّ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا ٦
قُلۡ
اَنۡزَلَهُ
الَّذِىۡ
يَعۡلَمُ
السِّرَّ
فِى
السَّمٰوٰتِ
وَالۡاَرۡضِ​ؕ
اِنَّهٗ
كَانَ
غَفُوۡرًا
رَّحِيۡمًا‏
٦
آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ اس کو اس نے نازل کیا ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چھپی ہوئی چیز کو جانتا ہے یقیناً وہ بہت بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے
تفاسیر
تہیں
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 25:4 سے 25:6 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
خود فریب مشرک ٭٭

خود فریب مشرکین ایک جہالت اوپر کی آیتوں میں بیان ہوئی۔ جو ذات الٰہی کی نسبت تھی۔ یہاں دوسری جہالت بیان ہو رہی ہے جو ذات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو تو اس نے اوروں کی مدد سے خود ہی جھوٹ موٹ گھڑ لیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ان کا ظلم اور جھوٹ ہے جس کے باطل ہونے کا خود انہیں بھی علم ہے۔ جو کچھ کہتے ہیں وہ خود اپنی معلومات کے بھی خلاف کہتے ہیں۔ کبھی ہانک لگانے لگتے ہیں کہ اگلی کتابوں کے قصے اس نے لکھوا لئے ہیں، وہی صبح شام اس کی مجلس میں پڑھے جا رہے ہیں۔ یہ جھوٹ وہ ہے جس میں کسی کو کوئی شک نہ ہو سکے۔ اس لیے کہ صرف اہل مکہ ہی نہیں بلکہ دنیا جانتی ہے کہ ہمارے نبی امی تھے نہ لکھنا جانتے تھے نہ پڑھنا۔ چالیس سال کی نبوت سے پہلے کی زندگی آپ نے انہی لوگوں میں گزاری تھی اور وہ اس طرح کہ اتنی مدت میں ایک واقعہ بھی آپ کی زندگی میں یا ایک لمحہ بھی ایسا نہ تھا جس پر انگلی اٹھا سکے۔ ایک ایک وصف آپ کا وہ تھا جس پر زمانہ شیدا تھا جس پر اہل مکہ رشک کرتے تھے۔ آپ کی عام مقبولیت اور محبوبیت، بلند اخلاق اور خوش معاملگی اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ ہر ایک دل میں آپ کے لیے جگہ تھی۔ عام زبانیں آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم امین کے پیارے خطاب سے پکارتی تھیں، دنیا آپ کے قدموں تلے آنکھیں بچھاتی تھی۔ کون سا دل تھا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر نہ ہو، کون سی آنکھ تھی جس میں احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت نہ ہو؟ کون سا مجمع تھا جس میں آپ کا ذکر خیر نہ ہو؟ کون وہ شخص تھا جو آپ کی بزرگی، صداقت، امانت، نیکی اور بھلائی کا قائل نہ ہو؟

صفحہ نمبر6005

پھر جب کہ اللہ کی بلند ترین عزت سے آپ معزز کئے گئے۔ آسمانی وحی کے آپ امین بنائے گئے تو صرف باپ دادوں کی روش کو پامال ہوتے ہوئے دیکھ کر یہ بےوقوف بےپیندے لوٹے کی طرح لڑھک گئے، تھالی کے بینگن کی طرح ادھر سے ادھر ہو گئے، لگے باتیں بنانے، اور عیب جوئی کرنے لیکن جھوٹ کے پاؤں کہاں؟

کبھی آپ کو شاعر کہتے، کبھی ساحر اور کبھی کذاب۔ حیران تھے کہ کیا کہیں اور کس طرح اپنی جاہلانہ روش کو باقی رکھیں اور اپنے معبودان باطل کے جھنڈے اوندھے نہ ہونے دیں اور کس طرح ظلم کدہ دنیا کو نور الہٰی سے نہ جگمگانے دیں؟ اب انہیں جواب ملتا ہے کہ قرآن کی سچی حقائق پہ مبنی اور سچی خبریں اللہ کی دی ہوئی ہیں جو علام الغیوب ہے، جس سے ایک ذرہ پوشیدہ نہیں کہ اس میں ماضی کے بیان سبھی سچ ہیں۔ جو آئندہ کی خبر اس میں ہے وہ بھی سچ ہے۔ اللہ کے سامنے ہو چکی ہوئی اور ہونے والی بات یکساں ہے۔ وہ غیب کو بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح ظاہر کو۔ اس کے بعد اپنی شان غفاریت کو اور شان رحم و کرم کو بیان فرمایا تاکہ بدلوگ بھی اس سے مایوس نہ ہوں۔ کچھ بھی کیا ہو، اب بھی اس کی طرف جھک جائیں، توبہ کریں، اپنے کئے پر پچھتائیں۔ نادم ہوں، اور رب کی رضا چاہیں۔

صفحہ نمبر6006

رحمت رحیم کے قربان جائیے کہ ایسے سرکش و دشمن، اللہ و رسول پر بہتان باز، اس قدر ایذائیں دینے والے لوگوں کو بھی اپنی عام رحمت کی دعوت دیتا ہے اور اپنے کرم کی طرف انہیں بلاتا ہے۔ وہ اللہ کو برا کہیں، وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہیں، وہ کلام اللہ پر باتیں بنائیں اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کی طرف رہنمائی کرے، اپنے فضل و کرم کی طرف دعوت دے، اسلام اور ہدایت ان پر پیش کرے، اپنی بھلی باتیں ان کو سجھائے اور سمجھائے۔

چنانچہ اور آیت میں عیسائیوں کی تثلیث پرستی کا ذکر کر کے ان کی سزا کا بیان کرتے ہوئے فرمایا «اَفَلَا يَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٗ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» [5-المائدة:74] ‏ ” یہ لوگ کیوں اللہ سے توبہ نہیں کرتے؟ اور کیوں اس کی طرف جھک کر اس سے اپنے گناہوں کی معافی طلب نہیں کرتے؟ وہ تو بڑا ہی بخشنے والا اور بہت ہی مہربان ہے۔ “

مومنوں کو ستانے اور انہیں فتنے میں ڈالنے والوں کا ذکر کر کے سورۃ البروج میں فرمایا کہ اگر ایسے لوگ بھی توبہ کر لیں، اپنے برے کاموں سے ہٹ جائیں، باز آئیں تو میں بھی ان پر سے اپنے عذاب ہٹالوں گا اور رحمتوں سے نواز دونگا۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کیسے مزے کی بات بیان فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: اللہ کے رحم و کرم کو دیکھو، یہ لوگ اس کے نیک چہیتے بندوں کو ستائیں، ماریں، پیٹیں، قتل کریں اور وہ انہیں توبہ کی طرف اور اپنے رحم و کرم کی طرف بلائے! «فسبحانہ ما اعظم شانہ» ۔

صفحہ نمبر6007
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں