سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
16:33
هل ينظرون الا ان تاتيهم الملايكة او ياتي امر ربك كذالك فعل الذين من قبلهم وما ظلمهم الله ولاكن كانوا انفسهم يظلمون ٣٣
هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّآ أَن تَأْتِيَهُمُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ أَوْ يَأْتِىَ أَمْرُ رَبِّكَ ۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ ٱللَّهُ وَلَـٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ٣٣
هَلْ
یَنْظُرُوْنَ
اِلَّاۤ
اَنْ
تَاْتِیَهُمُ
الْمَلٰٓىِٕكَةُ
اَوْ
یَاْتِیَ
اَمْرُ
رَبِّكَ ؕ
كَذٰلِكَ
فَعَلَ
الَّذِیْنَ
مِنْ
قَبْلِهِمْ ؕ
وَمَا
ظَلَمَهُمُ
اللّٰهُ
وَلٰكِنْ
كَانُوْۤا
اَنْفُسَهُمْ
یَظْلِمُوْنَ
۟
اب یہ لوگ کس شے کے منتظر ہیں سوائے اس کے کہ آ دھمکیں ان پر فرشتے یا آجائے فیصلہ آپ کے رب کا یہی روش اختیار کی تھی انہوں نے بھی جو ان سے پہلے تھے۔ اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 16:33 سے 16:34 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
فرشتوں کا انتظار ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکوں کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” انہیں تو ان فرشتوں کا انتظار ہے جو ان کی روح قبض کرنے کے لیے آئیں گے تا قیامت کا انتظار ہے اور اس کے افعال و احوال کا -ان جیسے ان سے پہلے کے مشرکین کا بھی یہی وطیرہ رہا یہاں تک کہ ان پر عذاب الٰہی آ پڑے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حجت پوری کر کے، ان کے عذر ختم کر کے، کتابیں اتار کر، وبال میں گھر گئے۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنا بگاڑ لیا “۔

اسی لیے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ «هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ» [52-الطور:14] ‏ ” یہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے رہے “۔

صفحہ نمبر4440