سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
5:69
ان الذين امنوا والذين هادوا والصابيون والنصارى من امن بالله واليوم الاخر وعمل صالحا فلا خوف عليهم ولا هم يحزنون ٦٩
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱلَّذِينَ هَادُوا۟ وَٱلصَّـٰبِـُٔونَ وَٱلنَّصَـٰرَىٰ مَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ وَعَمِلَ صَـٰلِحًۭا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ٦٩
اِنَّ
الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
وَالَّذِیْنَ
هَادُوْا
وَالصّٰبِـُٔوْنَ
وَالنَّصٰرٰی
مَنْ
اٰمَنَ
بِاللّٰهِ
وَالْیَوْمِ
الْاٰخِرِ
وَعَمِلَ
صَالِحًا
فَلَا
خَوْفٌ
عَلَیْهِمْ
وَلَا
هُمْ
یَحْزَنُوْنَ
۟
بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور وہ لوگ جو یہودی صابی اور نصاریٰ (عیسائی) ہوئے (اپنے اپنے زمانے میں جس قوم اور جس گروہ سے) جو کوئی ایمان لایا اللہ پر اور یوم آخرت پر اور اس نے اچھے عمل کیے تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غم سے دوچار ہوں گے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 5:68 سے 5:69 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
آخری رسول پر ایمان اولین شرط ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” یہود و نصاریٰ کسی دین پر نہیں، جب تک کہ اپنی کتابوں پر اور اللہ کی اس کتاب پر ایمان لائیں لیکن ان کی حالت تو یہ ہے کہ جیسے جیسے قرآن اترتا ہے یہ لوگ سرکشی اور کفر میں بڑھتے جاتے ہیں۔ پس اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ان کافروں کیلئے حسرت و افسوس کر کے کیوں اپنی جان کو روگ لگاتا ہے “۔

صابی، نصرانیوں اور مجوسیوں کی بے دین جماعت کو کہتے ہیں اور صرف مجوسیوں کو بھی علاوہ ازیں ایک اور گروہ تھا، یہود اور نصاریٰ دونوں مثل مجوسیوں کے تھے۔ قتادہ رحمة الله کہتے ہیں ”یہ زبور پڑھتے تھے غیر قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے تھے اور فرشتوں کو پوجتے تھے۔‏“ وہب فرماتے ہیں ”اللہ کو پہچانتے تھے، اپنی شریعت کے حامل تھے، ان میں کفر کی ایجاد نہیں ہوئی تھی، یہ عراق کے متصل آباد تھے، یلوثا کہے جاتے تھے، نبیوں کو مانتے تھے، ہر سال میں تیس روزے رکھتے تھے اور یمن کی طرف منہ کر کے دن بھر میں پانچ نمازیں بھی پڑھتے تھے۔‏“ اس کے سوا اور قول بھی ہیں چونکہ پہلے دو جملوں کے بعد انکا ذکر آیا تھا، اس لیے رفع کے ساتھ عطف ڈالا۔

ان تمام لوگوں سے جناب باری فرماتا ہے کہ ” امن و امان والے بے ڈر اور بے خوف وہ ہیں جو اللہ پر اور قیامت پر سچا ایمان رکھیں اور نیک اعمال کریں اور یہ ناممکن ہے، جب تک اس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ ہو جو کہ تمام جن و انس کی طرف اللہ کے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں “۔

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے آنے والی زندگی کے خطرات سے بے خوف ہیں اور یہاں چھوڑ کر جانے والی چیزوں کو انہیں کوئی تمنا اور حسرت نہیں۔ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں اس جملے کے مفصل معنی بیان کر دیئے گئے ہیں۔

صفحہ نمبر2386