سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
2:82
واذا الكواكب انتثرت ٢
وَإِذَا ٱلْكَوَاكِبُ ٱنتَثَرَتْ ٢
وَاِذَا
الۡكَوَاكِبُ
انْتَثَرَتۡۙ‏
٢
اور جب تارے بکھر جائیں گے۔
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
مزیددکھائیں...
آپ 82:1 سے 82:12 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
تفسیر سورۃ الإنفطار:

نسائی میں ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز پڑھائی اور میں لمبی قرأت پڑھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاذ کیا یہ سورتیں نہ تھیں؟ «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلیٰ» اور «وَالضُّحَى» اور «اِذَا السَّمَآءُ انۡفَطَرَتۡ» ۔‏“ [سنن نسائی:998،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اس حدیث کی اصل بخاری و مسلم میں ہے۔ [صحیح بخاری:705] ‏ ہاں «اِذَا السَّمَآءُ انۡفَطَرَتۡ» کا ذکر صرف نسائی کی روایت میں ہے اور وہ حدیث پہلے گزر چکی ہے جس میں بیان ہے کہ جو شخص قیامت کے دن کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے وہ «إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ» اور «اِذَا السَّمَآءُ انۡفَطَرَتۡ» اور «إِذَا السَّمَاء انشَقَّتْ» پڑھ لے۔ [سنن ترمذي:3333،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اور قبریں پھوٹ پڑیں ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” قیامت کے دن آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے “۔ جیسے فرمایا «السَّماءُ مُنفَطِرٌ بِهِ» [73-المزمل:18] ‏ ” اور ستارے سب کے سب گر پڑیں گے اور کھاری اور میٹھے سمندر آپس میں خلط ملط ہو جائیں گے۔ اور پانی سوکھ جائے گا قبریں پھٹ جائیں گی، ان کے شق ہونے کے بعد مردے بھی جی اٹھیں گے، پھر ہر شخص اپنے اگلے پچھلے اعمال کو بخوبی جان لے گا “۔

پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دھمکاتا ہے کہ ” تم کیوں مغرور ہو گئے ہو؟ “ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کا جواب طلب کرتا ہو یا سکھاتا ہو، بعض نے یہ بھی کہا ہے بلکہ انہوں نے جواب دیا ہے کہ اللہ کے کرم نے غافل کر رکھا ہے، یہ معنی بیان کرنے غلط ہیں۔

صحیح مطلب یہی ہے کہ ” اے ابن آدم! اپنے باعظمت اللہ سے تو نے کیوں بے پرواہی برت رکھی ہے، کس چیز نے تجھے اس کی نافرمانی پر اکسا رکھا ہے؟ اور کیوں تو اس کے مقابلے پر آمادہ ہو گیا ہے؟ “

حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے ابن آدم! تجھے میری جانب سے کسی چیز نے مغرور کر رکھا تھا؟ ابن آدم! بتا تو نے میرے نبیوں کو کیا جواب دیا؟

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ ”انسانی جہالت نے اسے غافل بنا رکھا ہے“، سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اسے بہکانے والا شیطان ہے۔‏“ فضیل ابن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اگر مجھ سے یہ سوال ہو تو میں جواب دوں گا کہ تیرے لٹکائے ہوئے پروں نے۔‏“ ابوبکر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں تو کہوں گا کہ «الْكَرِيمِ» کے کرم نے بے فکر کر دیا۔‏“

بعض سخن شناس فرماتے ہیں کہ یہاں پر «الْكَرِيمِ» کا لفظ لانا گویا جواب کی طرف اشارہ سکھانا ہے، لیکن یہ قول کچھ فائدے مند نہیں، بلکہ مطلب صحیح یہ ہے کہ کرم والوں کو اللہ کے کرم کے مقابلہ میں بدافعال اور برے اعمال نہ کرنے چاہئیں۔

سیدنا کلبی اور مقاتل رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”اخنس بن شریق کے بارے میں یہ نازل ہوئی ہے۔ اس خبیث نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارا تھا اور اسی وقت چونکہ اس پر کچھ عذاب نہ آیا تو وہ پھول گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔‏“ [بغوی:4/424:ضعیف] ‏

پھر فرماتا ہے ” وہ اللہ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست بنایا، پھر درمیانہ قد و قامت بخشا، خوش شکل اور خوبصورت بنایا “۔

10368

مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر اپنی انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم! کیا تو مجھے عاجز کر سکتا ہے؟ حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک کیا، پھر صحیح قامت بنایا، پھر تجھے پہنا اوڑھا کر چلنا پھرنا سکھایا، آخر کار تیرا ٹھکانہ زمین کے اندر ہے تو نے خوب دولت جمع کی اور میری راہ میں دینے سے باز رہا یہاں تک کہ جب دم حلق میں آ گیا تو کہنے لگا میں صدقہ کرتا ہوں۔ بھلا اب صدقے کا وقت کہاں؟ ۔ [سنن ابن ماجہ:2707،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ جس صورت میں چاہا ترکیب دی یعنی باپ کی، ماں کی، ماموں کی، چچا کی صورت پر پیدا کیا۔

ایک شخص سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے ہاں بچہ کیا ہو گا؟“ اس نے کہا: یا لڑکا یا لڑکی، فرمایا: ”کس کے مشابہ ہو گا؟“ کہا: یا میرے یا اس کی ماں کے، فرمایا!: ”خاموش ایسا نہ کہہ، نطفہ جب رحم میں ٹھہرتا ہے تو آدم تک کا نسب اس کے سامنے ہوتا ہے۔‏“ پھر آپ نے «فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الإنفطار:2] ‏ پڑھی اور فرمایا: ”جس صورت میں اس نے چاہا تجھے چلایا“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:36567:ضعیف] ‏ یہ حدیث اگر صحیح ہوتی تو آیت کے معنی کرنے کے لیے کافی تھی لیکن اس کی سند ثابت نہیں ہے۔ مظہرین ہثیم جو اس کے راوی ہیں یہ متروک الحدیث ہیں، ان پر اور جرح بھی ہے۔

بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا میری بیوی کو جو بچہ پیدا ہوا ہے وہ سیاہ فام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس اونٹ بھی ہیں؟“ کہا: جی ہاں، فرمایا: ”کس رنگ کے؟“ کہا: سرخ رنگ کے، فرمایا: ”ان میں کوئی چتکبرا بھی ہے؟“ کہا: ہاں، فرمایا: ”اس رنگ کا بچہ سرخ نر و مادہ کے درمیان کیسے پیدا ہو گیا؟“ کہنے لگا شاید اس کی نسل کی طرف کوئی رگ کھینچ لے گئی ہو، آپ نے فرمایا: ”اسی طرح تیرے بچے کے سیاہ رنگ کے ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہو“ ۔ [صحیح بخاری:5305] ‏

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے بندر کی صورت بنا دے اگر چاہے سور کی۔

10369

ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر چاہے کتے کی صورت میں بنا دے اگر چاہے گدھے کی اگر چاہے سور کی، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سب سچ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے لیکن وہ مالک ہمیں بہترین، عمدہ، خوش شکل اور دل لبھانے والی پاکیزہ پاکیزہ شکلیں صورتیں عطا فرماتا ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ اس کریم اللہ کی نافرمانیوں پر تمہیں آمادہ کرنے والی چیز صرف یہی ہے کہ تمہارے دلوں میں قیامت کی تکذیب ہے تم اس کا آنا ہی برحق نہیں جانتے اس لیے اس سے بےپرواہی برت رہے ہو، تم یقین مانو کہ تم پر بزرگ محافظ اور کاتب فرشتے مقرر ہیں تمہیں چاہیئے کہ ان کا لحاظ رکھو وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، تمہیں برائی کرتے ہوئے شرم آنی چاہیئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ بزرگ فرشتے تم سے جنابت اور پاخانہ کی حالت کے سوا کسی وقت الگ نہیں ہوتے۔ تم انکا احترام کرو، غسل کے وقت بھی پردہ کر لیا کرو، دیوار سے یا اوٹ سے ہی سہی یہ بھی نہ تو اپنے کسی ساتھی کو کھڑا کر لیا کرو تاکہ وہی پردہ ہو جائے ۔ [تفسیر قرطبی:19/248:مرسل] ‏ (‏ابن ابی حاتم)

بزار کی اس حدیث کے الفاظ میں کچھ تغیر و تبدل ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ننگا ہونے سے منع کرتا ہے، اللہ کے ان فرشتوں سے شرماؤ، اس میں یہ بھی ہے کہ غسل کے وقت بھی یہ فرشتے دور ہو جاتے ہیں ۔ [مختصر زوائد البزار:1/181:اسناد ضعیف] ‏

ایک حدیث میں ہے کہ جب یہ کراماً کاتبین بندے کے روزانہ اعمال اللہ کے سامنے پیش کرتے ہیں تو اگر شروع اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے درمیان کی سب خطائیں میں نے اپنے غلام کی بخش دیں ۔ [مسند بزار:3252،،قال الشيخ زبیرعلی زئی:اسناد ضعیف] ‏

ایک اور ضعیف حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے انسانوں کو اور ان کے اعمال جو جانتے پہنچانتے ہیں جب کسی بندے کو نیکی میں مشغول پاتے ہیں تو آپس میں کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں شخص نجات پا گیا فلاح حاصل کر گیا اور اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو آپس میں ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کی رات فلاں ہلاک ہوا ۔ [مسند بزار:3214:ضعیف] ‏

10370
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں