سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
28:36
فلما جاءهم موسى باياتنا بينات قالوا ما هاذا الا سحر مفترى وما سمعنا بهاذا في اباينا الاولين ٣٦
فَلَمَّا جَآءَهُم مُّوسَىٰ بِـَٔايَـٰتِنَا بَيِّنَـٰتٍۢ قَالُوا۟ مَا هَـٰذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّفْتَرًۭى وَمَا سَمِعْنَا بِهَـٰذَا فِىٓ ءَابَآئِنَا ٱلْأَوَّلِينَ ٣٦
فَلَمَّا
جَآءَهُمْ
مُّوْسٰی
بِاٰیٰتِنَا
بَیِّنٰتٍ
قَالُوْا
مَا
هٰذَاۤ
اِلَّا
سِحْرٌ
مُّفْتَرًی
وَّمَا
سَمِعْنَا
بِهٰذَا
فِیْۤ
اٰبَآىِٕنَا
الْاَوَّلِیْنَ
۟
تو جب موسیٰ ؑ پہنچا ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں لے کر انہوں نے کہا کہ یہ کچھ بھی نہیں سوائے گھڑے ہوئے جادو کے اور ہم نے ایسی کوئی بات اپنے پہلے آباء و اَجداد میں نہیں سنی
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 28:36 سے 28:37 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
فرعونی قوم کا رویہ ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام خلعت نبوت سے اور کلام الٰہی سے ممتاز ہو کر بحکم اللہ مصر میں پہنچے اور فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کی وحدت اور اپنی رسالت کی تلقین کے ساتھ ہی جو معجزے اللہ نے دئیے تھے انہیں دکھایا۔ سب کو مع فرعون کے یقین کامل ہو گیا کہ بیشک موسیٰ علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں۔

لیکن مدتوں کا غرور اور پرانا کفر سر اٹھائے بغیر نہ رہا اور زبانیں دل کے خلاف کر کے کہنے لگے یہ تو صرف مصنوعی جادو ہے۔

صفحہ نمبر6580

اب فرعونی اپنے دبدے اور قوت وطاقت سے حق کے مقابلے پر جم گئے اور اللہ کے نبیوں علیہم السلام کا سامنا کرنے پر تل گئے اور کہنے لگے ”کبھی ہم نے تو نہیں سنا کہ اللہ ایک ہے اور ہم تو کیا ہمارے اگلے باپ دادوں کے کان بھی آشنا نہیں تھے۔ ہم سب کے سب مع اپنے بڑے چھوٹوں کے بہت سے معبودوں کو پوجتے رہے۔ یہ نئی باتیں لے کر کہاں سے آ گیا؟۔‏“

کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”مجھے اور تم کو اللہ خوب جانتا ہے وہی ہم تم میں فیصلہ کرے گا ہم میں سے ہدایت پر کون ہے؟ اور کون نیک انجام پر ہے؟ اس کا علم بھی اللہ ہی کو ہے وہ فیصلہ کر دے گا اور تم عنقریب دیکھ لو گے کہ اللہ کی تائید کس کا ساتھ دیتی ہے؟ ظالم یعنی مشرک کبھی خوش انجام اور شاد کام نہیں ہوئے وہ نجات سے محروم ہیں۔‏“

صفحہ نمبر6581