سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
11:63
قال يا قوم ارايتم ان كنت على بينة من ربي واتاني منه رحمة فمن ينصرني من الله ان عصيته فما تزيدونني غير تخسير ٦٣
قَالَ يَـٰقَوْمِ أَرَءَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٍۢ مِّن رَّبِّى وَءَاتَىٰنِى مِنْهُ رَحْمَةًۭ فَمَن يَنصُرُنِى مِنَ ٱللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُۥ ۖ فَمَا تَزِيدُونَنِى غَيْرَ تَخْسِيرٍۢ ٦٣
قَالَ
یٰقَوْمِ
اَرَءَیْتُمْ
اِنْ
كُنْتُ
عَلٰی
بَیِّنَةٍ
مِّنْ
رَّبِّیْ
وَاٰتٰىنِیْ
مِنْهُ
رَحْمَةً
فَمَنْ
یَّنْصُرُنِیْ
مِنَ
اللّٰهِ
اِنْ
عَصَیْتُهٗ ۫
فَمَا
تَزِیْدُوْنَنِیْ
غَیْرَ
تَخْسِیْرٍ
۟
صالح نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! ذرا سوچوتو سہی اگر میں (پہلے سے ہی) اپنے رب کی طرف سے بینہّ پر تھا اور اللہ نے مجھے اپنے پاس سے خاص رحمت بھی عطا کردی تو اب اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو مجھے اللہ (کی پکڑ) سے کون بچائے گا ؟ تم تو اضافہ نہیں کرو گے میرے لیے مگر خسارہ ہی میں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 11:62 سے 11:63 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
باپ دادا کے معبود ہی ہم کو پیارے ہیں ٭٭

صالح علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی قوم کے درمیان جو بات چیت ہوئی اس کا بیان ہو رہا ہے وہ کہتے ہیں کہ تو یہ بات زبان سے نکال۔ اس سے پہلے تو ہماری بہت کچھ امیدیں تجھ سے وابستہ تھیں، لیکن تو نے ان سے سب پر پانی پھیر دیا۔ ہمیں پرانی روش اور باپ دادا کے طریقے اور پوجا پاٹ سے ہٹانے لگا۔ ہمیں تو تیری اس نئی رہبری میں بہت بڑا شک شبہ ہے۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا ”سنو میں اعلیٰ دلیل پر ہوں۔ میرے پاس رب کی نشانی ہے، مجھے اپنی سچائی پر دلی اطمینان ہے میرے پاس اللہ کی رسالت کی رحمت ہے۔ اب اگر میں تمہیں اس کی دعوت نہ دوں اور اللہ کی نافرمانی کروں اور اس کی عبادت کی طرف تمہیں نہ بلاؤں تو کون ہے جو میری مدد کر سکے اور اللہ کے عذاب سے مجھے بچا سکے؟ میرا ایمان ہے کہ مخلوق میرے کام نہیں آ سکتی تم میرے لیے محض بےسود ہو۔ سوائے میرے نقصان کے تم مجھے اور کیا دے سکتے ہو۔‏“

صفحہ نمبر3872