سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
11:109
فلا تك في مرية مما يعبد هاولاء ما يعبدون الا كما يعبد اباوهم من قبل وانا لموفوهم نصيبهم غير منقوص ١٠٩
فَلَا تَكُ فِى مِرْيَةٍۢ مِّمَّا يَعْبُدُ هَـٰٓؤُلَآءِ ۚ مَا يَعْبُدُونَ إِلَّا كَمَا يَعْبُدُ ءَابَآؤُهُم مِّن قَبْلُ ۚ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنقُوصٍۢ ١٠٩
فَلَا
تَكُ
فِیْ
مِرْیَةٍ
مِّمَّا
یَعْبُدُ
هٰۤؤُلَآءِ ؕ
مَا
یَعْبُدُوْنَ
اِلَّا
كَمَا
یَعْبُدُ
اٰبَآؤُهُمْ
مِّنْ
قَبْلُ ؕ
وَاِنَّا
لَمُوَفُّوْهُمْ
نَصِیْبَهُمْ
غَیْرَ
مَنْقُوْصٍ
۟۠
پس (اے نبی !) آپ کسی شک میں نہ رہیں ان کے بارے میں جن کی یہ لوگ پوجا کر رہے ہیں یہ لوگ نہیں پوجا کر رہے ہیں مگر ایسے ہی جیسے کہ ان کے آباء و اَجداد پوجا کرتے رہے ہیں اس سے پہلے اور یقیناً ہم ان کو دینے والے ہیں ان کا حصہ بغیر کسی کمی کے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 11:109 سے 11:111 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
مشرکوں کا حشر ٭٭

مشرکوں کے شرک کے باطل ہونے میں ہرگز شبہ تک نہ کرنا۔ ان کے پاس سوائے باپ دادا کی بھونڈی تقلید کے اور دلیل ہی کیا ہے؟ ان کی نیکیاں انہیں دنیا میں ہی مل جائیں گی آخرت میں عذاب ہی عذاب ہوگا۔ جو خیر و شکر کے وعدے ہیں سب پورے ہونے والے ہیں۔ ان کے عذاب کا مقررہ حصہ انہیں ضرور پہنچے گا۔ موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے کتاب دی لیکن لوگوں نے تفرقہ ڈالا۔ کسی نے اقرار کیا تو کسی نے انکار کر دیا۔ پس انہی نبیوں جیسا حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ہے کوئی مانے گا کوئی ٹالے گا۔

اور آیت میں ہے «وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَأَجَلٌ مُّسَمًّى فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ» [20-طه:129-130] ‏ ” چونکہ ہم وقت مقرر کر چکے ہیں چونکہ ہم بغیر حجت پوری کئے عذاب نہیں کیا کرتے اس لیے یہ تاخیر ہے ورنہ ابھی انہیں ان کے گناہوں کا مزہ یاد آ جاتا ہے پس ان کی باتوں پر صبر کر اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا ره “۔

کافروں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں غلط ہی معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا شک و شبہ زائل نہیں ہوتا۔ سب کو اللہ جمع کرے گا اور ان کے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ دے گا۔ اس قرأت کا بھی معنی اس ہمارے ذکر کردہ معنی کی طرف ہی لوٹنا ہے۔

صفحہ نمبر3925