سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
6:119
وما لكم الا تاكلوا مما ذكر اسم الله عليه وقد فصل لكم ما حرم عليكم الا ما اضطررتم اليه وان كثيرا ليضلون باهوايهم بغير علم ان ربك هو اعلم بالمعتدين ١١٩
وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا۟ مِمَّا ذُكِرَ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا ٱضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًۭا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَآئِهِم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُعْتَدِينَ ١١٩
وَمَا
لَكُمْ
اَلَّا
تَاْكُلُوْا
مِمَّا
ذُكِرَ
اسْمُ
اللّٰهِ
عَلَیْهِ
وَقَدْ
فَصَّلَ
لَكُمْ
مَّا
حَرَّمَ
عَلَیْكُمْ
اِلَّا
مَا
اضْطُرِرْتُمْ
اِلَیْهِ ؕ
وَاِنَّ
كَثِیْرًا
لَّیُضِلُّوْنَ
بِاَهْوَآىِٕهِمْ
بِغَیْرِ
عِلْمٍ ؕ
اِنَّ
رَبَّكَ
هُوَ
اَعْلَمُ
بِالْمُعْتَدِیْنَ
۟
اور تمہیں کیا ہے کہ تم نہیں کھاتے وہ چیزیں جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہو جب کہ اللہ تفصیل بیان کرچکا ہے تمہارے لیے ان چیزوں کی جو حرام کی گئی ہیں تم پر سوائے اس چیز کے کہ تم مجبور ہوجاؤ اس (کے کھانے) کے لیے اور یقیناً بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بغیر علم کے اپنی خواہشات کی بنا پر لوگوں کو گمراہ کرتے پھرتے ہیں۔ یقیناً آپ ﷺ کا رب خوب جانتا ہے ان حد سے تجاوز کرنے والوں کو۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 6:118 سے 6:119 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
صرف اللہ تعالیٰ کے نام کا ذبیحہ حلال باقی سب حرام ٭٭

حکم بیان ہو رہا ہے کہ ” جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے اسے کھا لیا کرو “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس جانور کے ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس کا کھانا مباح نہیں، جیسے مشرکین از خود مرگیا ہو اور مردار جانور، بتوں اور تھالوں پر ذبح کیا ہوا جانور کھا لیا کرتے تھے۔

کوئی وجہ نہیں کہ جن حلال جانوروں کو شریعت کے حکم کے مطابق ذبح کیا جائے اس کے کھانے میں حرج سمجھا جائے بالخصوص اس وقت کہ ہر حرام جانور کا بیان کھول کھول کر دیا گیا ہے۔ «فَصَّلَ» کی دوسری قرأت «فَصَلَ» ہے وہ حرام جانور کھانے ممنوع ہیں سوائے مجبوری اور سخت بے بسی کے کہ اس وقت جو مل جائے اس کے کھا لینے کی اجازت ہے۔

پھر کافروں کی زیادتی بیان ہو رہی ہے کہ وہ مردار جانور کو اور ان جانوروں کو جن پر اللہ کے سوا دوسروں کے نام لیے گئے ہوں حلال جانتے تھے۔ یہ لوگ بلا علم صرف خواہش پرستی کر کے دوسروں کو بھی راہ حق سے ہٹا رہے ہیں۔ ایسوں کی افتراء پردازی دروغ بافی اور زیادتی کو اللہ بخوبی جانتا ہے۔

صفحہ نمبر2739