سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
6:116
وان تطع اكثر من في الارض يضلوك عن سبيل الله ان يتبعون الا الظن وان هم الا يخرصون ١١٦
وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِى ٱلْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ ١١٦
وَاِنْ
تُطِعْ
اَكْثَرَ
مَنْ
فِی
الْاَرْضِ
یُضِلُّوْكَ
عَنْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ ؕ
اِنْ
یَّتَّبِعُوْنَ
اِلَّا
الظَّنَّ
وَاِنْ
هُمْ
اِلَّا
یَخْرُصُوْنَ
۟
اور اگر تم پیروی کرو گے زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے لازماً گمراہ کردیں گے یہ نہیں پیروی کر رہے مگر ظن وتخمین کی اور یہ نہیں کچھ کر رہے سوائے اس کے کہ انہوں نے کچھ اندازے مقرر کر رکھے ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 6:116 سے 6:117 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
بیکار خیالوں میں گرفتار لوگ ٭٭

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اکثر لوگ دنیا میں گمراہ کن ہوتے ہیں “۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ» [37-الصافات:71] ‏ اور جگہ ہے آیت «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» [12-یوسف:103] ‏ ” گو تو حرص کرے لیکن اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں “۔

پھر یہ لوگ اپنی گمراہی میں بھی کسی یقین پر نہیں صرف باطل گمان اور بے کار خیالوں کا شکار ہیں اندازے سے باتیں بنا لیتے ہیں پھر ان کے پیچھے ہو لیتے ہیں، خیالات کے پرو ہیں توہم پرستی میں گھرے ہوئے ہیں یہ سب مشیت الٰہی ہے وہ گمراہوں کو بھی جانتا ہے اور ان پر گمراہیاں آسان کر دیتا ہے، وہ راہ یافتہ لوگوں سے بھی واقف ہے اور انہیں ہدایت آسان کر دیتا ہے، ہر شخص پر وہی کام آسان ہوتے ہیں جن کیلئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔

صفحہ نمبر2737