سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
6:140
قد خسر الذين قتلوا اولادهم سفها بغير علم وحرموا ما رزقهم الله افتراء على الله قد ضلوا وما كانوا مهتدين ١٤٠
قَدْ خَسِرَ ٱلَّذِينَ قَتَلُوٓا۟ أَوْلَـٰدَهُمْ سَفَهًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍۢ وَحَرَّمُوا۟ مَا رَزَقَهُمُ ٱللَّهُ ٱفْتِرَآءً عَلَى ٱللَّهِ ۚ قَدْ ضَلُّوا۟ وَمَا كَانُوا۟ مُهْتَدِينَ ١٤٠
قَدْ
خَسِرَ
الَّذِیْنَ
قَتَلُوْۤا
اَوْلَادَهُمْ
سَفَهًا
بِغَیْرِ
عِلْمٍ
وَّحَرَّمُوْا
مَا
رَزَقَهُمُ
اللّٰهُ
افْتِرَآءً
عَلَی
اللّٰهِ ؕ
قَدْ
ضَلُّوْا
وَمَا
كَانُوْا
مُهْتَدِیْنَ
۟۠
یقیناً نامراد ہوئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو قتل کیا بےوقوفی سے بغیر علم کے اور انہوں نے حرام کرلیا (اپنے اوپر) وہ رزق جو اللہ نے انہیں دیا تھا اللہ پر افترا کرتے ہوئے وہ گمراہ ہوچکے ہیں اور اب ہدایت پر آنے والے نہیں ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
اولاد کے قاتل ٭٭

اولاد کے قاتل اللہ کے حلال کو حرام کرنے والے دونوں جہان کی بربادی اپنے اوپر لینے والے ہیں -دنیا کا گھاٹا تو ظاہر ہے ان کے یہ دونوں کام خود انہیں نقصان پہنچانے والے ہیں بے اولاد یہ ہو جائیں گے مال کا ایک حصہ ان کا تباہ ہو جائے گا۔ رہا آخرت کا نقصان سو چونکہ یہ مفتری ہیں، کذاب ہیں، وہاں کی بدترین جگہ انہیں ملے گی، عذابوں کے سزاوار ہوں گے۔

جیسے فرمان ہے کہ «قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ» [10-يونس:69-70] ‏ ” اللہ پر جھوٹ باندھنے والے نجات سے محروم کامیابی سے دور ہیں یہ دنیا میں گو کچھ فائدہ اٹھا لیں لیکن آخر تو ہمارے بس میں آئیں گے پھر تو ہم انہیں سخت تر عذاب چکھائیں گے کیونکہ یہ کافر تھے “۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”اگر تو اسلام سے پہلے کے عربوں کی بد خصلتی معلوم کرنا چاہے تو سورۃ الانعام کی ایک سو تیس آیات کے بعد آیت «قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُوا مَا رَزَقَهُمُ اللَّهُ افْتِرَاءً عَلَى اللَّهِ قَدْ ضَلُّوا وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ» [6-الأنعام:140] ‏ والی آیت پڑھو۔ [صحیح بخاری:3524] ‏

صفحہ نمبر2778