سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الشورى 42:48

42:48
فان اعرضوا فما ارسلناك عليهم حفيظا ان عليك الا البلاغ وانا اذا اذقنا الانسان منا رحمة فرح بها وان تصبهم سيية بما قدمت ايديهم فان الانسان كفور ٤٨
فَإِنْ أَعْرَضُوا۟ فَمَآ أَرْسَلْنَـٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا ۖ إِنْ عَلَيْكَ إِلَّا ٱلْبَلَـٰغُ ۗ وَإِنَّآ إِذَآ أَذَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ مِنَّا رَحْمَةًۭ فَرِحَ بِهَا ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ فَإِنَّ ٱلْإِنسَـٰنَ كَفُورٌۭ ٤٨
فَاِنْ
اَعْرَضُوْا
فَمَاۤ
اَرْسَلْنٰكَ
عَلَیْهِمْ
حَفِیْظًا ؕ
اِنْ
عَلَیْكَ
اِلَّا
الْبَلٰغُ ؕ
وَاِنَّاۤ
اِذَاۤ
اَذَقْنَا
الْاِنْسَانَ
مِنَّا
رَحْمَةً
فَرِحَ
بِهَا ۚ
وَاِنْ
تُصِبْهُمْ
سَیِّئَةٌ
بِمَا
قَدَّمَتْ
اَیْدِیْهِمْ
فَاِنَّ
الْاِنْسَانَ
كَفُوْرٌ
۟
پھر اگر یہ لوگ اعراض کریں تو (اے نبی ﷺ !) ہم نے آپ کو ان پر کوئی داروغہ بنا کر نہیں بھیجا نہیں ہے آپ پر کوئی ذمہ داری مگر صاف صاف پہنچا دینے کی اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا کوئی مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اتراتا ہے اور اگر ان پر آپڑے کوئی برائی ان کے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کی بدولت تو انسان بالکل نا شکرا بن جاتا ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 42:47 سے 42:48 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

موجوده دنيا ميں آدمي كا اصل امتحان يه هے كه جو صورت حال بھي اس كے سامنے آئے، وه اس ميں صحيح ردعمل پيش كرے۔ مگر انسان ايسا نهيں كرتا۔ اس كو جب كوئي كاميابي ملتي هے تو وه فخر وناز كي نفسيات ميں مبتلا هوجاتا هے۔ اورجب وه كسي مصيبت ميں پڑتا هے تو وه منفي جذبات كا اظهار كرنے لگتا هے۔

يهي وه لوگ هيں جو دعوت حق كے مقابله ميں صحيح رد عمل پيش نهيں كرپاتے۔ ان كا غير حقيقت پسندانه مزاج يهاں بھي ان كو غير حقيقت پسند بناديتاهے۔ دعوت حق كا صحيح رد عمل يه هے كه آدمي فوراً اس كي حقانيت كا اعتراف كرلے۔ مگر آدمي يه كرتاهے كه وه اس كو اپني ساكھ كا مسئله بنا ليتا هے۔ وه سمجھتا هے كه دعوت كو مان كر ميں اس كو پيش كرنے والے كے سامنے چھوٹا هوجاؤں گا۔ يه احساس اس كے ليے حق كو قبول كرنے كي راه ميں ركاوٹ بن جاتا هے۔ وه اس كي صداقت پر يقين كرنے كے باوجود اپني ذاتي مصلحتوں كي بنا پر اس كو نظر انداز كرديتا هے۔