سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
42:48
فان اعرضوا فما ارسلناك عليهم حفيظا ان عليك الا البلاغ وانا اذا اذقنا الانسان منا رحمة فرح بها وان تصبهم سيية بما قدمت ايديهم فان الانسان كفور ٤٨
فَإِنْ أَعْرَضُوا۟ فَمَآ أَرْسَلْنَـٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا ۖ إِنْ عَلَيْكَ إِلَّا ٱلْبَلَـٰغُ ۗ وَإِنَّآ إِذَآ أَذَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ مِنَّا رَحْمَةًۭ فَرِحَ بِهَا ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ فَإِنَّ ٱلْإِنسَـٰنَ كَفُورٌۭ ٤٨
فَاِنْ
اَعْرَضُوْا
فَمَاۤ
اَرْسَلْنٰكَ
عَلَیْهِمْ
حَفِیْظًا ؕ
اِنْ
عَلَیْكَ
اِلَّا
الْبَلٰغُ ؕ
وَاِنَّاۤ
اِذَاۤ
اَذَقْنَا
الْاِنْسَانَ
مِنَّا
رَحْمَةً
فَرِحَ
بِهَا ۚ
وَاِنْ
تُصِبْهُمْ
سَیِّئَةٌ
بِمَا
قَدَّمَتْ
اَیْدِیْهِمْ
فَاِنَّ
الْاِنْسَانَ
كَفُوْرٌ
۟
پھر اگر یہ لوگ اعراض کریں تو (اے نبی ﷺ !) ہم نے آپ کو ان پر کوئی داروغہ بنا کر نہیں بھیجا نہیں ہے آپ پر کوئی ذمہ داری مگر صاف صاف پہنچا دینے کی اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا کوئی مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اتراتا ہے اور اگر ان پر آپڑے کوئی برائی ان کے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کی بدولت تو انسان بالکل نا شکرا بن جاتا ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 42:47 سے 42:48 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
آسانی میں شکر تنگی میں صبر مومنوں کی صفت ہے ٭٭

چونکہ اوپر یہ ذکر تھا کہ قیامت کے دن بڑے ہیبت ناک واقعات ہوں گے وہ سخت مصیبت کا دن ہو گا تو اب یہاں اس سے ڈرا رہا ہے اور اس دن کے لیے تیار رہنے کو فرماتا ہے کہ اس اچانک آجانے والے دن سے پہلے ہی پہلے اللہ کے فرمان پر پوری طرح عمل کر لو «يَقُولُ الْإِنسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ كَلَّا لَا وَزَرَ إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ» ‏ [ 75-القيامة: 10 - 12 ] ‏ جب وہ دن آ جائے تو تمہیں نہ تو کوئی جائے پناہ ملے گی نہ ایسی جگہ کہ وہاں انجان بن کر ایسے چھپ جاؤ کہ پہچانے نہ جاؤ اور نہ نظر پڑے۔

پھر فرماتا ہے کہ «‏لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» [ 2-البقرة: 272 ] ‏ اگر یہ مشرک نہ مانیں تو آپ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے گئے انہیں ہدایت پر لاکھڑا کر دینا آپ کے ذمے نہیں یہ کام اللہ کا ہے۔ «فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ‏ [ 13-الرعد: 40 ] ‏ آپ پر صرف تبلیغ ہے حساب ہم خود لے لیں گے انسان کی حالت یہ ہے کہ راحت میں بدمست بن جاتا ہے اور تکلیف میں ناشکرا پن کرتا ہے اس وقت اگلی نعمتوں کا بھی منکر بن جاتا ہے۔

حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا صدقہ کرو میں نے تمہیں زیادہ تعداد میں جہنم میں دیکھا ہے کسی عورت نے پوچھا یہ کس وجہ سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری شکایت کی زیادتی اور اپنے خاوندوں کی ناشکری کی وجہ سے اگر تو ان میں سے کوئی تمہارے ساتھ ایک زمانے تک احسان کرتا رہے پھر ایک دن چھوڑ دے تو تم کہہ دو گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی کوئی راحت پائی ہی نہیں۔ [صحیح بخاری:304] ‏

فی الواقع اکثر عورتوں کا یہی حال ہے لیکن جس پر اللہ رحم کرے اور نیکی کی توفیق دیدے۔ اور حقیقی ایمان نصیب فرمائے پھر تو اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ ہر راحت پہ شکر ہر رنج پر صبر پس ہر حال میں نیکی حاصل ہوتی ہے اور یہ وصف بجز مومن کے کسی اور میں نہیں ہوتا۔ [صحیح مسلم:233] ‏

صفحہ نمبر8189