سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الشعراء 26:186

26:186
وما انت الا بشر مثلنا وان نظنك لمن الكاذبين ١٨٦
وَمَآ أَنتَ إِلَّا بَشَرٌۭ مِّثْلُنَا وَإِن نَّظُنُّكَ لَمِنَ ٱلْكَـٰذِبِينَ ١٨٦
وَمَاۤ
اَنْتَ
اِلَّا
بَشَرٌ
مِّثْلُنَا
وَاِنْ
نَّظُنُّكَ
لَمِنَ
الْكٰذِبِیْنَ
۟ۚ
اور تم نہیں ہو مگر ہمارے ہی جیسے ایک انسان اور تمہارے بارے میں ہمارا گمان غالب ہے کہ تم جھوٹوں میں سے ہو
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 26:185 سے 26:191 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

حضرت شعیب کی قوم کو اپنے آبائی طریقہ کی صداقت پر اس قدر یقین تھا کہ پیغمبر کی بات اس کو الٹی اور بے جوڑ معلوم ہوئی۔ اس نے کہا کہ تم پر شاید کسی نے سخت جادوئي عمل کردیا ہے۔ اس ليے تم ایسی باتیں کررہے ہو۔

ان کا یہ کہنا کہ ہمارے اوپر آسمانی عذاب لاؤ، اس کا رخ خدا کی طرف نہیں بلکہ حضرت شعیب کی طرف تھا۔ وہ حضرت شعیب کو بے حقیقت ثابت کرنے کے ليے ایسا کہتے تھے۔ کیوں کہ وہ حضرت شعیب کو ایسا نہیں سمجھتے تھے کہ ان کے کہنے سے آسمانی عذاب آجائے گا۔

آخر کار قوم کی سرکشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ سائبان کی طرح ایک بادل نے ان کے اوپر سایہ کرلیا۔ پھر خداکے حکم سے اس کے اندر سے ایسی آگ برسی جس نے پوری قوم کو مٹا کر رکھ دیا۔