ابراہیم علیہ السلام بھی نوح علیہ السلام کے دین پر تھے، انہی کے طریقے اور چال چلن پر تھے۔ اپنے رب کے پاس سلامت دل لے گئے یعنی توحید والا جو اللہ کو حق جانتا ہو۔ قیامت کو آنے والی مانتا ہو۔ مردوں کو دوبارہ جینے والا سمجھتا ہو۔ شرک و کفر سے بیزار ہو، دوسروں پر لعن طعن کرنے والا نہ ہو۔ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی تمام قوم سے اور اپنے سگے باپ سے صاف فرمایا کہ یہ تم کس کی پوجا پاٹ کر رہے ہو؟ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت چھوڑ دو اپنے ان جھوٹ موٹھ کے معبودوں کی عبادت چھوڑ دو۔ ورنہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ کیا کچھ نہ کرے گا اور تمہیں کیسی کچھ سخت ترین سزائیں دیگا؟
ماہانہ عطیات قرآن ڈاٹ کام کو بہتر بنانے اور اس کے نظام کو جاری رکھنے میں ہماری مدد کرتے ہیں، تاکہ ہم فنڈ ریزنگ کے بجائے اثر انگیزی پر زیادہ توجہ دے سکیں۔ مزيد جانیے