سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الصافات 37:86

37:86
ايفكا الهة دون الله تريدون ٨٦
أَئِفْكًا ءَالِهَةًۭ دُونَ ٱللَّهِ تُرِيدُونَ ٨٦
اَىِٕفْكًا
اٰلِهَةً
دُوْنَ
اللّٰهِ
تُرِیْدُوْنَ
۟ؕ
کیا تم لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ معبودوں کو چاہتے ہو !
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 37:83 سے 37:87 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

حضرت ابراہیم بھی اسی دین پر تھے جس دین پر حضرت نوح تھے۔ تمام نبیوں کی دعوت ہمیشہ ایک رہی ہے۔ وہ یہ کہ آدمی قلب سلیم کے ساتھ خدا کے یہاں پہنچے۔

قلب سلیم کے معنی ہیں پاک دل۔ یعنی آفات سے محفوظ دل۔ یہی اصل چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کو انسان سے مطلوب ہے۔ اللہ نے انسان کو فطرت صحیح پر پیدا کرکے دنیا میں بھیجا۔ اب اس کا امتحان یہ ہے کہ وہ دنیا کے فتنوں سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ ہر قسم کی نفسی اور شیطانی آلودگی سے پاک رہ کر خدا کے یہاں پہنچے۔ یہی پاک اور محفوظ انسان ہیں جن کو خدا اپنی جنتوں میں بسائے گا۔

شرک خدا کی تصغیر ہے۔ آدمی خدا کو سب سے بڑے کی حیثیت سے نہیں پاتا اس ليے وہ دوسری بڑائیوں میں گم ہو کر ان کی پرستش کرنے لگتا ہے۔