سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تذکیر القرآن الصف کی تفسیر، آیت 11

61:11
تومنون بالله ورسوله وتجاهدون في سبيل الله باموالكم وانفسكم ذالكم خير لكم ان كنتم تعلمون ١١
تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَتُجَـٰهِدُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمْوَٰلِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ١١
تُؤْمِنُوْنَ
بِاللّٰهِ
وَرَسُوْلِهٖ
وَتُجَاهِدُوْنَ
فِیْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ
بِاَمْوَالِكُمْ
وَاَنْفُسِكُمْ ؕ
ذٰلِكُمْ
خَیْرٌ
لَّكُمْ
اِنْ
كُنْتُمْ
تَعْلَمُوْنَ
۟ۙ
ایمان لاؤ اللہ اور اُس کے رسُول پر، 1 اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے۔ یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ 2
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 61:10 سے 61:13 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

تجارت میں آدمی پہلے دیتا ہے، اس کے بعد اس کو واپس ملتا ہے۔ دین کی جدوجہد میں بھی آدمی کو اپنی قوت اور اپنا مال دینا پڑتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ بھی ایک قسم کی تجارت ہے۔ البتہ دنیوی تجارت کا نفع صرف دنیا میں ملتا ہے اور دین کی تجارت کا نفع مزید اضافہ کے ساتھ دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی۔ پھر اسی ’’تجارت‘‘ سے غلبہ کی راہ بھی کھلتی ہے جو موجودہ دنیا میں کسی گروہ کو باعزت زندگی حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔