سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر ابنِ کثیر الروم کی تفسیر، آیت 8

30:8
اولم يتفكروا في انفسهم ما خلق الله السماوات والارض وما بينهما الا بالحق واجل مسمى وان كثيرا من الناس بلقاء ربهم لكافرون ٨
أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا۟ فِىٓ أَنفُسِهِم ۗ مَّا خَلَقَ ٱللَّهُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ وَأَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى ۗ وَإِنَّ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلنَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكَـٰفِرُونَ ٨
اَوَلَمْ
یَتَفَكَّرُوْا
فِیْۤ
اَنْفُسِهِمْ ۫
مَا
خَلَقَ
اللّٰهُ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضَ
وَمَا
بَیْنَهُمَاۤ
اِلَّا
بِالْحَقِّ
وَاَجَلٍ
مُّسَمًّی ؕ
وَاِنَّ
كَثِیْرًا
مِّنَ
النَّاسِ
بِلِقَآئِ
رَبِّهِمْ
لَكٰفِرُوْنَ
۟
کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غور و فکر  نہیں کیا؟1 اللہ نے زمین اور آسمانوں کو اور ان ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں برحق اور ایک مقرر مدت ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔2 مگر بہت سے لوگ اپنے  رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔3
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
وَإِنَّ كَثِيراً مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ لَكَفِرُونَ

(8. cont - And indeed many of mankind deny meeting with their Lord.) Then Allah tells us of the truth of the Message brought by the Messengers and how He supported them with miracles and clear signs, such as when He destroyed those who disbelieved in them and saved those who believed in them.