سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الروم 30:60

30:60
فاصبر ان وعد الله حق ولا يستخفنك الذين لا يوقنون ٦٠
فَٱصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّۭ ۖ وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ ٱلَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ ٦٠
فَاصْبِرْ
اِنَّ
وَعْدَ
اللّٰهِ
حَقٌّ
وَّلَا
یَسْتَخِفَّنَّكَ
الَّذِیْنَ
لَا
یُوْقِنُوْنَ
۟۠
تو (اے نبی ﷺ !) آپ صبر کیجیے بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور آپ ﷺ کو ہرگز ہلکا نہ پائیں وہ لوگ جو یقین نہیں رکھتے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

آیت 60 فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ ”جیسا کہ قبل ازیں بار بار توجہ دلائی گئی ہے کہ قرآن میں بہت سے مقامات پر صیغہ واحد میں حضور ﷺ سے خطاب کیا گیا ہے مگر دراصل آپ ﷺ کی وساطت سے تمام اہل ایمان کو مخاطب کیا گیا ہے۔ چناچہ یہاں بھی اہل ایمان کی دلجوئی کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ لوگ اللہ کے وعدے پر یقین رکھو اور ہر حال میں صبر و استقامت کا دامن تھامے رہو۔ اللہ کی مدد ضرور آئے گی اور بالآخر اللہ کا دین غالب ہو کر رہے گا۔ جہاں تک تمہارے موجودہ حالات اور مصائب و مشکلات کا تعلق ہے تو یہ تمہارے امتحان کا حصہ ہیں : اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ العنکبوت ”کیا لوگوں نے یہ سمجھا تھا کہ وہ چھوڑ دیے جائیں گے صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے اور انہیں آزمایا نہ جائے گا ؟“ اس سلسلے میں ہمارا قانون بہت واضح ہے : وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ط البقرۃ : 155 ”اور ہم ضرور آزمائیں گے تم لوگوں کو کسی قدر خوف ‘ بھوک اور مال و جان اور پھلوں کے نقصانات سے“۔ چناچہ اے مسلمانو ! ہمت سے کام لو ع ”ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں !“ اگر تم لوگ ان امتحانات میں سرخروہو گئے تو اللہ کے وعدے کے مطابق کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔وَّلَا یَسْتَخِفَّنَّکَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ ”اگرچہ یہ خطاب بھی صیغہ واحد میں حضور ﷺ سے ہے مگر یہاں بھی اہل ایمان کی تثبیت قلبی مقصود ہے کہ اے مسلمانو ! ایسا نہ ہو کہ مخالفین کے دباؤ کی وجہ سے تمہارے پاؤں میں لغزش آجائے اور انہیں تمہارے بارے میں یہ کہنے کا موقع مل جائے کہ یہ لوگ تو کمزور اور بودے ثابت ہوئے ہیں۔ چناچہ تم اپنے موقف پر کوہ ہمالیہ کی طرح ڈٹے رہو۔ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے اس کے راستے میں اپنا تن من اور دھن کھپانے کی حکمت عملی بدستور اپنائے رکھو۔ اللہ کی مدد اس راستے میں ضرور تمہارے شامل حال رہے گی اور اللہ تمام مشکلات کو دور کر کے تمہیں لازماً کامیاب کرے گا ‘ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی !