سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
30:22
ومن اياته خلق السماوات والارض واختلاف السنتكم والوانكم ان في ذالك لايات للعالمين ٢٢
وَمِنْ ءَايَـٰتِهِۦ خَلْقُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱخْتِلَـٰفُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَٰنِكُمْ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّلْعَـٰلِمِينَ ٢٢
وَمِنْ
اٰیٰتِهٖ
خَلْقُ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ
وَاخْتِلَافُ
اَلْسِنَتِكُمْ
وَاَلْوَانِكُمْ ؕ
اِنَّ
فِیْ
ذٰلِكَ
لَاٰیٰتٍ
لِّلْعٰلِمِیْنَ
۟
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا فرق یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 30:22 سے 30:24 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کی نشانی ہے — اس کا عدم سے وجود میںآنا خدا کی قوتِ تخلیق کو بتاتا ہے۔ اس کے اندر بے شمار تنوع خدا کی قدرت کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ تمام چیزوں میں حد درجہ معنویت خدا کی صفتِ رحمت کا آئینہ ہے۔ بجلی جیسی تباہ کن چیزوں کی موجودگی خدا کی صفت انتقام کا تعارف ہے۔ زمین کا خشک ہوجانے کے بعد دوبارہ ہرا بھرا ہوجانا تخلیق ثانی کے امکان کو بتارہاہے۔

یہ سب خدا کی نشانیاں ہیں۔ مگر یہ نشانیاں صرف ان لوگوں کےلیے ہیں جو کائنات کی خاموش پکار پر کان لگائیں۔ جو اپنی عقل اور اپنے علم کو صحیح رخ پر استعمال کریں۔