سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
30:16
واما الذين كفروا وكذبوا باياتنا ولقاء الاخرة فاولايك في العذاب محضرون ١٦
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا وَلِقَآئِ ٱلْـَٔاخِرَةِ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ فِى ٱلْعَذَابِ مُحْضَرُونَ ١٦
وَاَمَّا
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
وَكَذَّبُوْا
بِاٰیٰتِنَا
وَلِقَآئِ
الْاٰخِرَةِ
فَاُولٰٓىِٕكَ
فِی
الْعَذَابِ
مُحْضَرُوْنَ
۟
اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا اور ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تھا تو وہ عذاب میں پکڑے ہوئے ہوں گے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 30:11 سے 30:16 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
اعمال کے مطابق فیصلے ٭٭

فرمان باری ہے کہ ” سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فنا کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو “۔

وہاں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہو جائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لیے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ ان کے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور صاف کہدیں گے کہ ہم میں ان میں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہو جائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو «علیین» میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ «سجین» میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے۔

پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ ” نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے “۔

صفحہ نمبر6768