سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: النساء 4:5

4:5
ولا توتوا السفهاء اموالكم التي جعل الله لكم قياما وارزقوهم فيها واكسوهم وقولوا لهم قولا معروفا ٥
وَلَا تُؤْتُوا۟ ٱلسُّفَهَآءَ أَمْوَٰلَكُمُ ٱلَّتِى جَعَلَ ٱللَّهُ لَكُمْ قِيَـٰمًۭا وَٱرْزُقُوهُمْ فِيهَا وَٱكْسُوهُمْ وَقُولُوا۟ لَهُمْ قَوْلًۭا مَّعْرُوفًۭا ٥
وَلَا
تُؤْتُوا
السُّفَهَآءَ
اَمْوَالَكُمُ
الَّتِیْ
جَعَلَ
اللّٰهُ
لَكُمْ
قِیٰمًا
وَّارْزُقُوْهُمْ
فِیْهَا
وَاكْسُوْهُمْ
وَقُوْلُوْا
لَهُمْ
قَوْلًا
مَّعْرُوْفًا
۟
اور مت پکڑا دو ناسمجھوں کو اپنے وہ مال جن کو اللہ نے تمہارے گزران کا ذریعہ بنایا ہے ہاں انہیں اس میں سے کھلاتے اور پہناتے رہو اور ان سے بات کیا کرو اچھے انداز میں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

(آیت) ” ولا توتوا السفہآء اموالکم التی جعل اللہ لکم قیما وارزقوھم فیھا واکسوھم وقولوا لھم قولا معروفا “۔ (5)

نادانی اور دانائی کا پتہ بلوغ کے بعد چل جاتا ہے ۔ بالعموم نادان اور دانا کے درمیان ہو ہی جاتی ہے ۔ اس لئے اس بات کی ضرورت نہیں ہوتی کہ قانون کے اندر اس کیلئے کوئی فارمولا وضع کردیا جائے ، ہر خاندان اس بات کی تمیز اچھی طرح کرلیتا ہے کہ اس کے اندر نادان کون ہے اور دانا کون ہے ۔ اسے اچھی طرح تجربہ ہوتا ہے کہ یہ راشد ہے اور یہ سفیہ ہے نیز سوسائٹی سے بھی کسی شخص کے معاملات اور تصرفات پوشیدہ نہیں ہوتے ۔ لہذا جانچ پڑتال اس بات کی ہوگی کہ یتیم بالغ ہوگیا ہے یا نہیں ۔ یہاں آیت میں اس بلوغ کی تعبیر لفظ نکاح سے کی گئی ہے کیونکہ بلوغ میں سے نکاح ایک اہم اثر ہوتا ہے ۔