سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
16:21
اموات غير احياء وما يشعرون ايان يبعثون ٢١
أَمْوَٰتٌ غَيْرُ أَحْيَآءٍۢ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ ٢١
اَمْوَاتٌ
غَیْرُ
اَحْیَآءٍ ۚ
وَمَا
یَشْعُرُوْنَ ۙ
اَیَّانَ
یُبْعَثُوْنَ
۟۠
مردہ ہیں زندہ نہیں ہیں۔ اور وہ نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 16:19 سے 16:21 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
اللہ خالق کل ٭٭

چھپا کھلا سب کچھ اللہ جانتا ہے، دونوں اس پر یکساں ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ قیامت کے دن دے گا نیکوں کو جزا بدوں کو سزا۔ جن معبودان باطل سے لوگ اپنی حاجتیں طلب کرتے ہیں وہ کسی چیز کے خالق نہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔

جیسے کہ خلیل الرحمن ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ وَاللَّـهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ» [37-الصافات:96-95] ‏ ” تم انہیں پوجتے ہو جنہیں خود بناتے ہو۔ درحقیقت تمہارا اور تمہارے کاموں کا خالق صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے “۔ بلکہ تمہارے معبود جو اللہ کے سوا جمادات، بے روح چیزیں، سنتے سیکھتے اور شعور نہیں رکھتے انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ قیامت کب ہوگی؟ تو ان سے نفع کی امید اور ثواب کی توقع کیسے رکھتے ہو؟ یہ امید تو اس اللہ سے ہونی چاہیئے جو ہر چیز کا عالم اور تمام کائنات کا خالق ہے۔

صفحہ نمبر4424