سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
3:20
فان حاجوك فقل اسلمت وجهي لله ومن اتبعن وقل للذين اوتوا الكتاب والاميين ااسلمتم فان اسلموا فقد اهتدوا وان تولوا فانما عليك البلاغ والله بصير بالعباد ٢٠
فَإِنْ حَآجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِىَ لِلَّهِ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِ ۗ وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْأُمِّيِّـۧنَ ءَأَسْلَمْتُمْ ۚ فَإِنْ أَسْلَمُوا۟ فَقَدِ ٱهْتَدَوا۟ ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ ٱلْبَلَـٰغُ ۗ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِٱلْعِبَادِ ٢٠
فَاِنْ
حَآجُّوْكَ
فَقُلْ
اَسْلَمْتُ
وَجْهِیَ
لِلّٰهِ
وَمَنِ
اتَّبَعَنِ ؕ
وَقُلْ
لِّلَّذِیْنَ
اُوْتُوا
الْكِتٰبَ
وَالْاُمِّیّٖنَ
ءَاَسْلَمْتُمْ ؕ
فَاِنْ
اَسْلَمُوْا
فَقَدِ
اهْتَدَوْا ۚ
وَاِنْ
تَوَلَّوْا
فَاِنَّمَا
عَلَیْكَ
الْبَلٰغُ ؕ
وَاللّٰهُ
بَصِیْرٌ
بِالْعِبَادِ
۟۠
پھر (اے نبی ﷺ اگر وہ آپ ﷺ سے حجت بازی کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں نے تو اپنا چہرہ اللہ کے سامنے جھکا دیا ہے اور انہوں نے بھی جو میرا اتباع کر رہے ہیں اور (اے نبی ﷺ !) آپ کہہ دیجیے ان سے بھی کہ جنہیں کتاب دی گئی تھی (یعنی یہود اور نصاریٰ) اور اُمّییّن سے بھی کہ کیا تم بھی اسی طرح اسلام لاتے ہو ؟ پس اگر وہ بھی اسی طرح اسلام لے آئیں تو ہدایت پر ہوجائیں گے اور اگر وہ منہ موڑ لیں تو (اے نبی ﷺ !) آپ ﷺ پر ذمہ داری صرف پہنچا دینے کی ہے اور اللہ اپنے بندوں کے حال کو دیکھ رہا ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 3:18 سے 3:22 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

کائنات کا خدا ایک ہی خداہے اور وہ عدل وقسط کو پسند کرتا ہے۔ تمام آسمانی کتابیں اپنی صحیح صورت میں اسی کا اعلان کررہی ہیں۔ پھیلی ہوئی کائنات جس كو اس کا مالک اپنے غیر مرئی کارندوں (فرشتوں) کے ذریعہ چلا رہا ہے وہ کامل طور پر ویسی ہی ہے جیسا کہ اس کو ہونا چاہیے۔ ثابت شدہ علم انسانی کے مطابق کائنات ایک حد درجہ وحدانی نظام ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ کائنات کا مدبر صرف ایک ہے۔ اسی طرح کائنات کی ہر چیز کا اپنے محل مناسب میں ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کاخدا عد ل کو پسند کرنے والا خدا ہے، نہ کہ بے انصافی کو پسند کرنے والا۔ پھر جو خدا وسیع تر کائنات میں مسلسل عدل کو قائم کيے ہوئے ہو وہ انسان کے معاملے میں خلافِ عدل باتوں پرکیسے راضی ہوجائے گا۔

کائنات کا ہر جزء کامل طورپر ’’مسلم‘‘ ہے۔ یعنی اپنی سرگرمیوں کو اللہ کے مقررہ نقشہ کے مطابق انجام دیتا ہے۔ ٹھیک یہی رویہ انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کو پہچانے اور اس کے مطلوبہ نقشہ کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے۔ اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا مرکز توجہ بنانا یا یہ خیال کرنا کہ اللہ کا فیصلہ عدل کے سوا کسی اور بنیاد پر ہوسکتا ہے، ایسی بے اصل بات ہے جس کے لیے موجودہ کائنات میں کوئی گنجائش نہیں۔

قرآن کی دعوت اسی سچے اسلام کی دعوت ہے۔ جو لوگ اس سے اختلاف کررہے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں هے کہ اس کا حق ہونا ان پر واضح نہیں ہے۔ اس کی وجہ ضد ہے۔ اس کو ماننا انھیں داعیٔ قرآن کی فکری برتری تسلیم کرنے کے ہم معنی نظر آتا ہے، اور ان کی حسد اور کبر کی نفسیات اس قسم کا اعتراف کرنے پر راضی نہیں۔ سیدھی طرح حق کو مان لینے کے بجائے وہ چاہتے ہیں کہ اس زبان ہی کو بند کردیں جو حق کا اعلان کررہی ہے۔ تاہم خدا کی دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ داعیٔ حق کی زبان کو بند کرنے کے لیے ان کا ہر منصوبہ ناکام ہوگا اور جب خدا کے عد ل کا ترازو کھڑا ہوگا تو وہ دیکھ لیں گے کہ ان کے وہ اعمال کس قدر بے قیمت تھے جن کے بل پر وہ اپنی نجات اور کامیابی کا یقین کيے ہوئے تھے — سچی دلیل خدا کی نشانی ہے۔ جو شخص دلیل کے سامنے نہیں جھکتا وہ گویا خدا کے سامنے نہیں جھکتا۔ ایسے لوگ قیامت میں اس طرح اٹھیں گے کہ وہ سب سے زیادہ بے سہارا ہوں گے۔