سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: القصص 28:7

28:7
واوحينا الى ام موسى ان ارضعيه فاذا خفت عليه فالقيه في اليم ولا تخافي ولا تحزني انا رادوه اليك وجاعلوه من المرسلين ٧
وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰٓ أُمِّ مُوسَىٰٓ أَنْ أَرْضِعِيهِ ۖ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِى ٱلْيَمِّ وَلَا تَخَافِى وَلَا تَحْزَنِىٓ ۖ إِنَّا رَآدُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ ٧
وَاَوْحَیْنَاۤ
اِلٰۤی
اُمِّ
مُوْسٰۤی
اَنْ
اَرْضِعِیْهِ ۚ
فَاِذَا
خِفْتِ
عَلَیْهِ
فَاَلْقِیْهِ
فِی
الْیَمِّ
وَلَا
تَخَافِیْ
وَلَا
تَحْزَنِیْ ۚ
اِنَّا
رَآدُّوْهُ
اِلَیْكِ
وَجَاعِلُوْهُ
مِنَ
الْمُرْسَلِیْنَ
۟
اور ہم نے وحی کردی موسیٰ ؑ کی والدہ کو کہ تم اسے دودھ پلاتی رہو اور جب تمہیں اس کے بارے میں اندیشہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا اور نہ خوف کھانا اور نہ رنجیدہ ہونا ہم اسے لوٹانے والے ہیں تمہاری طرف اور اسے بنانے والے ہیں رسولوں میں سے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 28:7 سے 28:9 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

حضرت موسیٰ کی پیدائش کے زمانہ میں بنی اسرائیل کے لڑکے ہلاک کيے جارہے تھے۔ اس بنا پر حضرت موسیٰ کی والدہ پریشان ہوئیں۔ اس وقت غالباً خواب کے ذریعہ آپ کی والدہ کو یہ تدبیر بتائی گئی کہ وہ آپ کو ایک چھوٹی کشتی میںرکھ کردریائے نیل میں ڈال دیں۔ انھوں نے تین ماہ بعد ایسا ہی کیا۔ یہ چھوٹی کشتی بہتے ہوئے فرعون کے محل کے سامنے پہنچی۔ فرعون کی بیوی (آسیہ) ایک نیک بخت خاتون تھیں۔ان کو حضرت موسیٰ کے معصوم اور پرکشش حلیہ کو دیکھ کر رحم آگیا۔ چنانچہ ان کے مشورہ پر حضرت موسیٰ فرعون کے محل میں رکھ ليے گئے۔

روایات میںآتا ہے کہ فرعون کی بیوی نے کہا کہ یہ بچہ آنکھ کی ٹھنڈک ہے۔ فرعون نے جواب دیا کہ تمھارے ليے ہے، نہ کہ میرے ليے (لَکِ لا لِی)۔ یہ بات غالباً فرعون نے مرد اور عورت کے فرق پر کہی ہوگی مگر بعد کو وہ عین واقعہ بن گئی۔